نُورِ ہدایت — Page 691
تو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو اپنے وعدے کے مطابق بھیجا جنہوں نے پھر اس تعلیم میں سے جو قرآن کریم کی صورت میں موجود تھی، علم و عرفان کے موتی نکال کر ہماری بیماریوں کے علاج کئے۔اور یہ بتایا کہ امت میں جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، ان کے علاج یہ ہیں۔اور میرے ساتھ جڑو گے تو اس سے اپنے علاجوں میں کامیاب ہو سکتے ہو۔ڈاکٹروں کو تو نئی بیماریوں کا علاج ایک ریسرچ اور لمبا عرصہ محنت کرنے سے پتہ لگتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے روحانی علاج کے لئے چودہ سو سال پہلے قرآن کریم میں کامل شریعت اتار کر یہ علاج رکھ دیا تھا۔اور ہر زمانے میں جو اللہ کے بندے تھے اس کو سمجھتے رہے۔اور آخر پر جو مزید نئی بیماریاں پیدا ہوئی تھیں ان کے علاج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر اسی جگہ سے بتا دئیے۔کیونکہ قرآنِ کریم کا فہم اور عرفان اس زمانے کی بیماریوں کے مطابق آپ کو ہی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔اور پھر جب ہر قسم کی ناسخ و منسوخ کے الزام سے اس کلام قرآن کریم کو پاک کر دیا تو پھر ہی پتہ لگ سکتا تھا کہ کیا صحیح علاج ہیں اور یہ کام بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی فرمایا۔اور حقیقی مومنوں اور قرآن کریم پر غور کرنے والوں کو آپ کی تفسیروں اور وضاحتوں اور تعلیم کی روشنی میں جو قرآن کریم سے نکال کر آپ نے ہمارے سامنے رکھی حسب ضرورت یہ علاج میسر آتے رہے۔پس جو لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کی ضرورت نہیں تھی یا اب کسی مصلح کے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کی بیماریاں جو ہیں وہ ظاہر ہو کر پھر بڑھتی چلی جاتی ہیں اور بڑھتی چلی جارہی ہیں لیکن وہ اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ جو اس زمانے کا امام اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کو قبول کریں۔یہ سب دشمنیاں جو ہیں ان میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔خود کش حملے جو ہیں ،قتل وغارت جو ہے، دہشت گردی جو ہے کیا یہ اسلامی تعلیم ہے؟ خدا کے نام پر اور مذہب کے نام پر ظلم جو ہے، یہ اسلام کی تعلیم ہے؟ یقینا نہیں۔صرف ان لوگوں نے نا سمجھی یاڈھٹائی کی وجہ سے اس تعلیم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے جو حقیقی تعلیم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پیش فرما رہے ہیں۔یہ سب چیزیں جو ہیں جس پر آج کل مسلمانوں کے عمل ہو رہے ہیں، یہ تو اپنے عارضی ربوں کو خوش 691