نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 683 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 683

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (الا علی 2) یعنی تسبیح کر اپنے رب کی جو اعلیٰ ہے۔یعنی تیرا رب جو ربوبیت کے لحاظ سے سب سے بلند اور اعلیٰ شان رکھتا ہے اُس کی تسبیح کر۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ تو اپنے رب کا نام دنیا میں بلند کر۔گویا دو ذمہ داریاں ایک مومن کی لگائی گئی ہیں جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کامل نمونہ بنایا اور آپ پر شریعت کامل ہوئی اور آپ کے طریق پر چلنا ہم پر فرض قرار دیا۔پس ہر شخص جو آپ کی طرف حقیقی رنگ میں منسوب ہوتا ہے اور ہونا چاہتا ہے، اس کا یہ فرض ہے کہ آپ کے اُسوہ پر چلنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (سورة الاحزاب (22)۔یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ایک کامل نمونہ ہے جس کی پیروی کرنی چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے میں آپ کا کیا نمونہ تھا؟ آپ کے صبح شام، رات دن اللہ تعالیٰ کے ذکر سے پر گزرتے تھے۔پھر بھی آپ فرماتے ہیں کہ اے رب ! مجھے اپنا ذ کر کرنے والا اور اپنا شکر کرنے والا بنا۔( سنن ابن ماجہ کتاب الدعاء باب دعاء رسول الله على العلم حدیث نمبر 3830) رکوع اور سجدے میں آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید فرماتے تھے۔اور آپ کی تسبیح وتحمید اور گریہ وزاری ایک عجیب رنگ رکھتی تھی۔رکوع میں جب سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم سے اپنے عظیم رب جورب العالمین ہے، اس کی بزرگی اور برتری کا ذکر فرماتے ہیں تو کھڑے ہو کر سمیع الله لمن حمدہ کہہ کر پھر اللہ تعالیٰ کی بے شمار حد کی طرف توجہ فرماتے ہیں۔آپ کے رکوع اور سجود اور قیام اور نماز کی ہر حرکت کے بارہ میں ایک دفعہ پوچھنے پر حضرت عائشہ نے فرمایا تھا کہ اس کی خوبصورتی اور لمبائی نہ پوچھو۔( بخاری کتاب التهجد باب قیام النبی الالمام باليل في رمضان وغیرہ حدیث نمبر 1147) رض سجدوں کی لمبائی کے بارہ میں ایک روایت میں یہ ذکر ملتا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں تشریف لائے اور قبلہ رو ہو کر سجدہ میں چلے گئے۔بہت لمبا سجدہ کیا۔اتنا لمبا کہ میں آپ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا۔بلکہ یہاں تک 683