نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 674 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 674

إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ اب ایک سوال رہ جاتا ہے کہ اگر اس کتاب نے ہمیشہ رہنا تو پھر بتائیے کسی موعود کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اگلے حصہ میں دیا ہے۔اس آیت کے متعلق بوجہ ان معنوں کے نہ کرنے کے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے مفسرین کو سخت دقت پیش آئی ہے اور وہ حیران ہوئے ہیں کہ الَّا مَا شَاءَ اللہ کے اس جگہ کیا معنے ہوئے؟ کیا قرآن کا کچھ حصہ اُڑ جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے فَلا تنسی کے ساتھ إِلَّا مَا شَاء اللہ بھی کہہ دیا۔اس وقت کو حل کرنے کے لئے بعض نے تو کہہ دیا ہے کہ الا مَا شَاءَ الله سے منسوخ آیات مراد ہیں۔مگر یہ درست نہیں۔اس لئے کہ جن آیات کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے وہ یا تو قرآن کریم میں آج تک لکھی ہوئی موجود ہیں یا اس عقیدہ کے رکھنے والوں کے قول کے مطابق اگر وہ منسوخ التلاوۃ بھی ہیں تو آج تک تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں۔مگر خدا تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ وہ بھول جائیں گی۔جب وہ سب کی سب قرآن کریم یا تفسیروں میں موجود ہیں تو بھول کس طرح جائیں گی۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ قرآن کریم میں کوئی آیت منسوخ بھی ہے۔ہم قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کو قابل عمل سمجھتے ہیں۔لیکن وہ لوگ جو قرآن کریم میں ناسخ منسوخ کے قائل ہیں میں اُن کا ذکر کر رہا ہوں کہ اُن کا یہ استدلال درست نہیں۔اس لئے که فلا تنسی کے ساتھ الَّا مَا شَاء اللہ کا ذکر کیا گیا ہے اور نسخ اول تو بھولنے کو نہیں کہتے۔پھر جب کہ وہ سب آیات جن کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے یا تو قرآن کریم میں یا تفاسیر میں موجود اور لکھی ہوئی ہیں تو وہ بھول کس طرح گئیں۔واقعہ بھی یہ ہے کہ وہ سب اسی طرح موجود ہیں اور کسی کو بھی بھولی نہیں۔پس یہ معنے تو درست نہیں ہو سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ نسیان دو قسم کا ہوتا ہے۔کبھی لفظا نسیان ہوتا ہے اور کبھی معنا نسیان ہوتا ہے۔جب ہم کسی چیز کو بھول جانے کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے دو معنے ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ 674