نُورِ ہدایت — Page 60
مسلمانوں میں سے بن جا۔پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ( پہلی صفت کے زوال کے بعد کسی نئی صفت کو اختیار کرنے اور اپنی شان کے تبدیل ہونے اور کسی عیب کے لاحق ہونے اور نقص کے بعد خوبی کے پانے سے پاک ہے۔بلکہ اس کے لئے اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ابدالآباد تک حمد ثابت ہے۔اور جو اس کے خلاف کہے وہ حق سے برگشتہ ہو کر کافروں میں سے ہو گیا۔یہ آیت نصاریٰ اور بت پرستوں کی تردید کرتی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق پوری طرح ادا نہیں کرتے اور اس کی روشنی کے پھیلنے کی امید نہیں رکھتے بلکہ اس پر اندھیرے کا پردہ پھیلا دیتے ہیں۔اور اس کو دُکھوں کی راہوں میں ڈال دیتے ہیں۔اور اس کو پورے کمال سے دور رکھتے ہیں۔اور مخلوق میں سے ایک کثیر حصہ کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔الحمدُ لله کے الفاظ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب اُن سے سوال کیا جائے اور اُن سے پوچھا جائے کہ اُن کا معبود کون ہے تو ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ جواب دے کہ میرا معبود وہ ہے جس کے لئے سب حمد ہے اور کسی قسم کا کوئی کمال اور قدرت ایسی نہیں مگر وہ اس کے لئے ثابت ہے۔پس تو بھولنے والوں میں سے نہ بن۔اگر مشرکوں پر ایمان کی کچھ بھی جھلک پڑ جاتی اور ان پر عرفان کی ہلکی سی بارش بھی ہو جاتی تو انہیں قیوم عالمین پر بدظنی کرنا تباہ نہ کرتا۔لیکن انہوں نے خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی مانند سمجھ لیا جو جوانی کے بعد بوڑھا ہو گیا ہو اور اپنی بے نیازی کے بعد محتاج ہو گیا ہو اس پر بڑھاپا اور لاغری کی مصیبتیں اور قحط کی سختیاں وارد ہوئی ہوں اور وہ مٹی میں مل گیا بلکہ تباہی کے کنارے جالگا ہو اور بالکل محتاج ہو گیا ہو۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 106 - 110 ) اس سورۃ کو الحمد للہ سے شروع کیا گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک حمد اور تعریف اس ذات کے لئے مسلّم ہے جس کا نام اللہ ہے۔اور اس فقرہ الحمد للہ سے اس 60