نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 61 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 61

لئے شروع کیا گیا کہ اصل مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت رُوح کے جوش اور طبیعت کی کشش سے ہو اور ایسی کشش جو عشق اور محبت سے بھری ہوئی ہو ہر گز کسی کی نسبت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ شخص ایسی کامل خوبیوں کا جامع ہے جن کے ملاحظہ سے بے اختیار دل تعریف کرنے لگتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ کامل تعریف دو قسم کی خوبیوں کے لئے ہوتی ہے۔ایک کمال محسن اور ایک کمال احسان اور اگر کسی میں دونوں خوبیاں جمع ہوں تو پھر اُس کے لئے دل فدا اور شیدا ہو جاتا ہے۔اور قرآن شریف کا بڑا مطلب یہی ہے کہ خدا تعالی کی دونوں قسم کی خوبیاں حق کے طالبوں پر ظاہر کرے تا اُس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اُس کی بندگی کریں۔اس لئے پہلی سورۃ میں ہی یہ نہایت لطیف نقشہ دکھلانا چاہا ہے کہ وہ خدا جس کی طرف قرآن بلاتا ہے وہ کیسی خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے۔سو اسی غرض سے اس سورۃ کو الحمد للہ سے شروع کیا گیا جس کے یہ معنے ہیں کہ سب تعریفیں اس کی ذات کے لئے لائق ہیں جس کا نام اللہ ہے۔اور قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اُس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں محسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی منقصت اُس کی ذات میں نہ ہو۔قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کا ملہ اس میں پائی جائیں۔پس جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اس میں پائی گئی تو حسن اس کا ظاہر ہے۔اسی محسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا نام نور ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ (النور (36) یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نُور ہے۔ہر ایک نور اسی کے نور کا پر توہ ہے۔اور احسان کی خوبیاں اللہ تعالیٰ میں بہت ہیں جن میں سے چار بطور اصل الاصول ہیں اور ان کی ترتیب طبعی کے لحاظ سے پہلی خوبی وہ ہے جس کو سورہ فاتحہ میں رَبُّ العلمین کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت یعنی پیدا کرنا اور کمال مطلوب تک پہنچانا تمام عالموں میں جاری وساری 61