نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 662 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 662

بھی باپ اور ماں کی طرح ہے بلکہ صرف اس حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے کہ جس طرح بیٹا باپ میں سے نکلتا ہے اسی طرح نبی خدا تعالی کی طرف سے اس کی صفات کو ظاہر کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔تیشیبی کلام استعمال کیا گیا تھا اور دراصل ایسا ہونا ضروری بھی تھا۔کیونکہ انسانی دماغ ابھی نشو و نما پا رہا تھا۔وہ ارتقائی منازل کو آہستہ آہستہ طے کر رہا تھا اور ابھی وہ اس قابل نہیں ہوا تھا کہ شریعت کے باریک احکام یا الہی کلام کی باریک حکمتوں کو سمجھ سکے۔مگر اب تیرے لئے ہم رب الاعلیٰ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔تشبیہ تب دی جاتی ہے جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آئے۔مگر جب کوئی چیز اونچی چلی جائے تو اس کے لئے تشبیہات اور استعارات استعمال کرنے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تیرے لئے رب الاعلیٰ ہونے کی حیثیت میں ظاہر ہوئے ہیں۔اس لئے تمام تشبیہات کی تشریحات کر دی گئی ہیں۔اور بتادیا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کو باپ کہا جاتا تھا تو اُس کے کیا معنے تھے۔اور جب کسی نبی کو اُس کا بیٹا یا اکلوتا بیٹا کہا جاتا تھا تو اُس کے کیا معنے تھے۔توحید کیا ہوتی ہے۔شرک کن باتوں سے پیدا ہوتا ہے۔شرک کی کیا کیا قسمیں ہیں۔یہ اور اسی قسم کے تمام مسائل کو ہم نے پوری طرح واضح کر کے رکھ دیا ہے۔اس لئے تو جس طرح ان غلطیوں کو دور کر سکتا ہے پہلے لوگ ان غلطیوں کوڈ ور نہیں کر سکتے تھے۔کیونکہ پہلے انبیاء کے لئے ہم رب الاعلیٰ ہونے کی حیثیت میں ظاہر نہیں ہوئے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اُس وقت رب الاعلیٰ نہیں تھا بلکہ اس کے صرف اتنے معنے ہیں کہ ظہورِ ربوبیت اعلیٰ اس وقت نہیں ہوا تھا۔لیکن اس وقت ربوبیت اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے۔اور شریعت کو ہر لحاظ سے کامل کر دیا گیا ہے۔اس لئے اس کے ہر حکم کی حکمت اور ہر تعلیم کی خوبی کو واضح کر دیا گیا ہے۔اور تیرا فرض ہے کہ تو اُن اعتراضات کو ڈور کرے جو خدا تعالیٰ کی ذات اور اُس کی صفات اور اُس کی تعلیم وغیرہ کے متعلق کئے جاتے ہیں۔اگر اعلیٰ کو اسم کی صفت قرار دیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تیرے رب کا جو نام اعلیٰ 662