نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 636 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 636

تیسرے وہ لوگ ہیں جو دنیا وی بکھیڑوں میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو بھول گئے ہیں۔کبھی خیال آ جائے تو نماز بھی پڑھ لیں گے، دعا بھی کرلیں گے لیکن کوئی باقاعدگی نہیں ہے۔اس طرف توجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔بہر حال یہ بات یقینی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کو بھلاتے ہیں وہ آخر کا ر ایسی حالت کو پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کا اخلاقی انحطاط بھی ہوتا ہے اور روحانی تنزل بھی ہوتا ہے اور آخر کار ذہنی سکون بھی جاتا رہتا ہے۔وہ سمجھتے تو یہ ہیں کہ دنیا کے کاموں میں ان کے فوائد ہیں۔اس لئے یہ تو پہلے کرو۔خدا تعالیٰ کے حق بعد میں ادا ہوتے رہیں گے۔کیونکہ دنیاوی منفعت میں بظاہر انتہ رانہیں فوری آرام اور آسائش نظر آ رہے ہوتے ہیں۔لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ ایسا سلوک کرتا ہے کہ فَأَنسَهُمْ أَنْفُسَهُمْ - اللہ تعالیٰ نے خود انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا اور ایسے لوگ کبھی ذہنی سکون نہیں پاتے۔پس مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر حقیقی تقویٰ تمہارے اندر ہے اور تم مومن ہو، خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین رکھتے ہو، اس کی وحدانیت پر ایمان ویقین ہے تو پھر ان شرائط کے مطابق اپنی زندگی بسر کرو جن کے مطابق زندگی بسر کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اپنے ہر کام کے انجام کو دیکھو اور اس یقین پر قائم ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ تمہارے ہر عمل اور فعل کو دیکھ رہا ہے اور جب انسان کی ایسی سوچ ہو تو پھر ہر کام کرنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے اور انسان خود محسوس کرتا ہے کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل بھی مجھ پر بڑھ رہے ہیں۔مجھے یاد ہے جب میں کینیا میں دورے پر گیا ہوں تو وہاں کے ایک پرانے سیاستدان تھے جو ایک reception میں وہاں ملے۔کہنے لگے کہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو بھی ملا ہوں۔انہوں نے مجھے ایک نصیحت کی تھی جس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا ہے اور وہ نصیحت یہ تھی کہ تم ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے اور اس کے پاس تمہاری تمام باتوں کا ریکارڈ بھی ہے۔اب مجھے یاد نہیں کہ مسلمان تھے یا عیسائی ، غالباً عیسائی تھے۔اگر 636