نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 631 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 631

مطلب ہے کہ انہوں نے بھی اپنی کل کو برباد کر لیا اور اپنا رزق جو انہوں نے حاصل کیا وہ بھی حلال نہیں رہا۔یہ دھو کے کا رزق ہے۔پس یہ آیت جو اپنے کل پر نظر رکھنے کی طرف توجہ دلار ہی ہے بڑی وسعت رکھتی ہے اور ہر قدم پر ایک حقیقی مومن کے پاؤں پکڑ کر کسی بھی معمولی کمزوری اور گناہ کی طرف بڑھنے سے روکتی ہے۔پس یہ یقین ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس یقین پر ہم قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور پھر اس بات پر بھی یقین کہ وہ ہمارے ہر قسم کے دھو کے، فریب چاہے وہ ہم معمولی سمجھ کر تھوڑا سا منافع کمانے کے لئے کر رہے ہیں یا اپنے کام میں سستی دکھا رہے ہیں یا معاہدے کے مطابق اس نیت سے جان بوجھ کر کام ختم نہیں کر رہے که شاید کسی کو دباؤ میں لا کر مزید مفاد اٹھا سکیں تو یا درکھیں ایسی باتیں خدا تعالیٰ کو پسند نہیں۔اور جب خدا تعالیٰ کو پسند نہیں تو پھر جیسا کہ حضرت خلیفہ اول نے بھی فرمایا کہ اس کا بدلہ ہوگا اور اس کا بدلہ پھر سزا کی صورت میں ہی ہے۔پس مومن کو کل پر نظر رکھنے کا کہہ کر اپنے معمولی گھریلو معاملات سے لے کر اپنے معاشرتی، کاروباری ہلکی، بین الاقوامی تمام معاملات میں تقویٰ پر چلنے کی طرف توجہ دلا دی اور جو تقویٰ پر نہیں چلتا وہ پھر اس بات کو بھی ذہن میں رکھے کہ ایسا انسان خدا کی پکڑ میں آئے گا۔انسان کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ دنیاوی معاملات کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔مومن کے لئے تقویٰ پر چلنے ہے اور تقویٰ میں تمام دینی اور دنیاوی کاموں کو خدا تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق بجالانا ضروری ہے۔انسان بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ دنیاوی نقصان کے ابتلا سے بچنے کی کوشش کروں۔مالی منفعت حاصل کرلوں چاہے جو بھی ذریعہ اپنایا جائے۔لیکن یادرکھنا چاہئے کہ کوئی ایسا طریق جس سے دھوکہ دے کر فائدہ حاصل کیا جائے دین سے اور ایمان سے دور لے جانے والا ہے اور یہ بظاہر دنیاوی معاملہ دینی ابتلا بن جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ آہستہ آہستہ دین اور خدا سے دور لے جاتا ہے۔اس لئے ایک مومن کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ایمان کا ابتلا دنیاوی ابتلاؤں سے بہت زیادہ ہے جس کے نتیجہ میں دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔631