نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 630 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 630

کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا“۔فرماتے ہیں کہ انسان غضب کے وقت قتل کر دینا چاہتا ہے۔گالی نکالتا ہے۔مگر سوچے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔اس اصل کو مد نظر رکھے تو تقویٰ کے طریق پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی۔“ ( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 67) اگر ہم دیکھیں تو تمام برائیاں اور تمام گناہ اس لئے سرزد ہوتے ہیں کہ ان کے کرتے وقت ہمارے دماغ میں ایک خناس سمایا ہوتا ہے، شیطان گھسا ہوتا ہے۔نتائج سے بے پرواہ ہو کر کام ہوتا ہے۔بہت شاذ ایسا ہوتا ہے کہ قتل و غارتگری کرنے والے یا گناہ کرنے والے اقرار کر کے خود اپنے آپ کو اس کے نتائج بھگتنے کے لئے پیش کر دیں۔ایسے لوگوں کے جنون کی کیفیت جو خود ہی پیش کرتے ہیں تقریباً مستقل کیفیت ہوتی ہے۔باقی ہر عقل والا ، عام عقل والا انسان جب اس جنونی کیفیت سے باہر آتا ہے تو اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔عادی مجرموں کا معاملہ تو اور ہے وہ اس کے علاوہ ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی بات نہیں فرما ر ہا جو عادی لوگ ہیں یا بالکل پاگل ہیں بلکہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو فرماتا ہے کہ مومن کی نشانی کل پر نظر رکھنا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ نتائج پر یا کل پر نظر رکھنے کا خیال کس طرح پیدا ہو، کس طرح نظر رکھی جائے۔اس کے لئے آپ فرماتے ہیں کہ اس بات پر ایمان رکھے کہ وَاللهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔جو کام تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔انسان اگر یہ یقین رکھے کہ کوئی خبیر وعظیم بادشاہ ہے جو ہر قسم کی بدکاری، دغا، فریب، سستی اور کاہلی کو دیکھتا ہے اور اس کا بدلہ دے گا تو وہ بیچ سکتا ہے“۔آپ نے فرمایا ایسا ایمان پیدا کرو۔بہت سے لوگ ہیں جو اپنے فرائض نوکری ، حرفہ، مزدوری وغیرہ میں سستی کرتے ہیں۔ایسا کرنے سے رزق حلال نہیں رہتا“۔( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحه 67-68) یعنی دنیاوی معاملات میں بھی جو سستی کرتے ہیں اور ان کا حق ادا نہیں کرتے تو اس کا 630