نُورِ ہدایت — Page 629
اگلی نسل کی کل کی بھی ایک حقیقی مومن ضمانت بننے کی کوشش کرے گا۔بلکہ ضمانت بن جاتا ہے کہ عموماً پھر آئندہ نسل بھی نیکیوں پر قدم مارنے والی ہوگی۔پس اگر وہ گھر یا وہ خاندان جو اپنے گھروں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر برباد کر رہے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر غور کرنے والے اور ان پر عمل کرنے والے بن جائیں تو نہ صرف اپنے گھروں کے سکون کے ضامن ہو جائیں گے، اپنے بچوں کی صحیح تربیت اور ان کو تقویٰ پر چلنے کی طرف رہنمائی کرنے والے بھی بن جائیں گے اور ان کی زندگیاں سنوارنے والے بھی بن جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔پس ایسے گھروں کو جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر صرف دنیا داری کی خاطر اپنے گھروں کو برباد کر رہے ہیں سوچنا اور غور کرنا چاہئے۔اگلی نسلیں صرف آپ ہی کی اولاد نہیں ہیں بلکہ جماعت اور قوم کا بھی سرمایہ ہیں۔ان کو صحیح راستے دکھانا ماں باپ کا کام ہے اور یہی بھی ہو سکتا ہے جب ماں باپ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات کے مطابق چلانے کی کوشش کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ تو ایک پہلو ہے جس کی طرف ہر مومن کو اللہ تعالیٰ نے کوشش کرنے کی طرف اور عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ اپنی اور بچوں کی دنیا و آخرت سنوار سکیں۔ہماری زندگی میں بیشمار ایسے مواقع آتے ہیں جب ہم تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔آخرت پر نظر نہیں رکھتے۔اس دنیا کے وسائل اور ضروریات کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔دنیا کے سہاروں کو اللہ تعالیٰ کے سہاروں پر لاشعوری طور پر ترجیح دیتے ہیں۔پھر اپنی کمزوریوں کی وجہ سے، نا اہلیوں کی وجہ سے،سستیوں کی وجہ سے اس دنیا کے مستقبل کو بھی برباد کرتے ہیں۔اس دنیا میں جو اپنی کل ہے اس کو بھی برباد کرتے ہیں اور اگلے جہان کی کل کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔یہ نہیں سوچتے کہ اس کے کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے ایک دفعہ مختصر الفاظ میں یوں توجہ دلائی کہ مومن کو چاہئے 629