نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 623 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 623

کرنا۔پھر قرآن کریم میں اور جگہوں پر اگر ہم دیکھیں ، ان آیتوں کی رُو سے یہ معنی بھی ملتے ہیں کہ نعمت الہی کی ناشکری کر کے دائرہ اطاعت سے خارج ہونا۔یا جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کرے گاوہ دائرہ اطاعت سے باہر نکلا ہوا سمجھا جائے گا اور یوں فاسقوں یا بد کرداروں میں شمار ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر کے ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔جو بھی حالات ہوں، کبھی بھی خدا تعالیٰ کے احکامات کو نہیں بھلائیں گے۔دوسرے ایک احمدی پر اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اُسے اُس نعمت سے حصہ دیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کو آگے بڑھانے اور اسلام کی تجدید کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں بھیجی ہے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے تو سب سے بڑی نعمت نبوت کی نعمت ہے جس کے لئے مسلمانوں میں عجیب دو عملی دیکھتے ہیں کہ دعا بھی مانگتے ہیں اور انکار بھی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ ہم وہ خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہمیں اس نے اس نعمت کو قبول کرنے کی توفیق دی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اور آپ کے طفیل ملنے والی نعمت تھی اور ہم اُن لوگوں میں شمار ہوئے جو اس انعام میں سے حصہ پانے والے ہیں اور حقیقت میں انعام سے حصہ پانے والے اور اس کی شکر گزاری ادا کرنے والے ہم تبھی ہو سکتے ہیں جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات اور توقعات پر پورا اترنے والے ہوں، اس کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔ورنہ ہم اللہ تعالیٰ کو بھلانے والے اور اپنی غفلتوں میں ڈوب جانے والے ہوں گے اور نتیجہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہوں گے۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں توحید کے قیام کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے آئے تھے اور حقیقی تقویٰ بھی اُسی وقت قائم ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین ہو اور اُس کی رضا مقصود و مطلوب ہو اور خدا 623