نُورِ ہدایت — Page 624
تعالی کی توحید میں انسان کھویا جائے اور جب یہ ہو جائے تو حقیقی تقویٰ انسان میں پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ال توحید صرف اِس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا إلهَ إِلَّا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بُبت جمع ہوں۔بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔بت صرف وہی نہیں ہیں جوسونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں اور اُن پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بت ہے“۔فرمایا: "یادر ہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس، یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو، منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا۔کوئی رازق نہ ماننا۔کوئی معز اور مذل خیال نہ کرنا۔( یعنی یہ ہمیشہ یادرکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے بالا ہے اور دنیا کی کوئی چیز، ہر عزت اور ذلت جوانسان کو ملتی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، کوئی انسان نہ کسی کو معزز بنا سکتا ہے نہ ذلیل کر سکتا ہے۔پس یہ ہے توحید کا اصل کہ اللہ تعالی ہی کو عزت دینے والا اور ذلت دینے والا سمجھنا۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو انسان کو عزتوں کا مالک بھی بناتا ہے اور اگر اُس کے غلط کام ہوں تو اُس کو ذلیل ورسوا بھی کرتا ہے۔) پھر فرمایا کہ : ” کوئی ناصر اور مددگار قرار نہ دینا۔“ ( خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی مددگار نہ ہو۔) اور دوسرے یہ کہ اپنی محبت اُسی سے خاص کرنا۔اپنی عبادت اُسی سے خاص کرنا۔اپنا تذلل اُسی سے خاص کرنا ( بعض لوگ جو انسانوں کے آگے جھکتے ہیں، فرمایا نہیں، ہر قسم کی عاجزی اور تذلل صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے ہو۔) اپنی امید میں اُسی سے خاص کرنا۔اپنا خوف 624