نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 619 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 619

کرنے کی کوشش کرنے والی اولاد جہاں اپنی عاقبت سنوار نے والی ہوگی ، وہاں نیک اولاد کے عمل اور اُن کی دعائیں جو وہ والدین کے لئے کر رہے ہیں، والدین کے درجات اگلے جہان میں بھی بلند کرنے کا باعث بن رہی ہوں گی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی شادی کے موقع پر بھی یہ بات یاد رکھو کہ دنیا اور اس کی تمام آسائشیں، آسانیاں، مزے اور لذتیں عارضی چیز ہیں۔شادی اور دنیاوی ملاپ یہ سب عارضی لذات ہیں۔اصلی لذت خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ہے جو اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور اس کے پھل ایک مومن پھر اگلے جہان میں بھی کھاتا ہے۔پس ایک مومن کو بار بار مختلف رنگ میں اللہ تعالی تنبیہ اور تلقین فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو کبھی نہ بھولو، تقویٰ پر قائم رہو، ایسے اعمال بجا لاؤ جو اس جہان کو بھی اور اگلے جہان کو بھی سنوارنے والے ہوں۔اس جہان میں بھی تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنو اور آئندہ زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنو اور یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل کی خبر رکھنے والا ہے۔اُس کی نظر سے انسان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ہر عمل کا حساب کتاب رکھا جارہا ہے۔اس لئے انسان کو بہت پھونک پھونک کے اس دنیا میں اپنے قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ایمان لانا اور ایمان کا دعویٰ کرنا صرف کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی راہوں کی تلاش اور ان پر عمل ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مجلس میں فرماتے ہیں کہ : اسلام میں حقیقی زندگی ایک موت چاہتی ہے جو تلخ ہے۔لیکن جو اُس کو قبول کرتا ہے آخر وہی زندہ ہوتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ انسان دنیا کی خواہشوں اور لذتوں کو ہی جنت سمجھتا ہے حالانکہ وہ دوزخ ہے۔اور سعید آدمی خدا کی راہ میں تکالیف کو قبول کرتا ہے اور وہی جنت ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا فانی ہے اور سب مرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ سب دوست، آشنا، عزیز واقارب جدا ہو جاتے ہیں۔اس وقت جس قدر نا جائز خوشیوں اور لذتوں کو راحت سمجھتا ہے وہ تلخیوں کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہیں۔619