نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 620 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 620

سیٹی خوشحالی اور راحت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اور تقویٰ پر قائم ہونا گویا زہر کا پیالہ پینا ہے۔( یعنی بظاہر بہت مشکل کام ہے ) متقی کے لیے خدا تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔(لیکن جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے ) فرمایا مَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔(سورة الطلاق 3-4) پس خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے۔لیکن حصول تقوی کے لئے نہیں چاہئے کہ ہم شرطیں باندھتے پھریں۔تقویٰ اختیار کرنے سے جو مانگو گے ملے گا۔خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔تقویٰ اختیار کرو جو چاہو گے وہ دے گا“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 90۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) یعنی شرط یہ نہیں رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دے تو ہم نیکیاں کریں۔بلکہ نیکیاں کرو، تقوی اختیار کرو، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، پھر اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا ہو جاتا ہے جو مانگو وہ دیتا بھی ہے۔پس تقویٰ پر چلنے سے انسان اللہ تعالیٰ کے ہر قسم کے انعامات کو حاصل کرنے والا بن سکتا ہے، بن جاتا ہے۔لیکن ہمیں ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہوا ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے تقویٰ پر چلنے کا عہد کیا ہے۔اس لئے ہم نے اپنے قول وفعل کو ایک کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : تقویٰ کا مرحلہ بڑا مشکل ہے۔اُسے وہی طے کر سکتا ہے جو بالکل خدا تعالیٰ کی مرضی پر چلے۔جو وہ چاہے وہ کرے۔اپنی مرضی نہ کرے۔بناوٹ سے کوئی حاصل کرنا چاہے تو ہر گز نہ ہوگا۔( تقویٰ ایسی چیز نہیں کہ بناوٹ سے حاصل ہو جائے۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا ) اس لیے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور 620