نُورِ ہدایت — Page 613
نہیں کرتے۔انسان کوئی نیکی نہیں کرتا کہ ہم اس کا بدلہ بڑھا چڑھا کر نہیں دیتے۔اس لئے ضروری ہے کہ جب انسان کوئی اہم کام کرنے لگے تو ساتھ کوئی نہ کوئی نیکی بھی کرے۔صلحاء اور انبیاء کا یہی طریق ہے۔( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 324) حضرت خلیفہ المسح الثالث نے سورۃ الحشر کی آیات 19 تا 21 کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: پہلی آیت میں یہ بنیادی ہدایت دی گئی ہے کہ تقویٰ اللہ کا تقاضا ہے کہ انسان اس بات پر نظر رکھے کہ مستقبل کے لئے وہ کیا کر رہا ہے۔اس میں شک نہیں کہ انسان کا ماضی سے گہرا تعلق ہے اور ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔اس کا لحاظ رکھنا، اسے فراموش نہ ہونے دینا بھی ضروری ہے لیکن ماضی سے زیادہ جو چیز انسان سے تعلق رکھتی ہے وہ حال کا زمانہ ہے یا وہ زمانہ ہے جو لمحہ بہ لمحہ مستقبل سے حال میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔مستقبل کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس نے کبھی آنا ہی نہ ہو اور وہ ہمیشہ مستقبل ہی رہے۔جو چیز مستقبل سے حال میں بدلتی چلی جاتی ہے جب تک وہ حال میں نہ بدلے ہم اسے مستقبل کہتے ہیں۔مستقبل اپنی ذات میں دائمی حیثیت کا حامل نہیں ہوتا۔وہ نہ صرف یہ کہ حال میں تبدیل ہو کر رہتا ہے بلکہ لمحہ بہ لمحہ حال میں تبدیل ہو رہا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مستقبل ہمارے حال کی تعمیل کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا یہ ہے کہ انسان کو تقویٰ اللہ پر قائم ہو کر مضبوطی سے ایسے مقام پر کھڑا ہونا چاہیے کہ اسے یہ اطمینان حاصل ہو سکے کہ میرا مستقبل جو کچھ بھی ہے جیسے جیسے وہ حال میں تبدیل ہوگا وہ میرے لئے دکھ کا نہیں سکھ کا موجب ہوگا۔یہ تو اس زندگی کی کیفیت ہے جو ہم اس دنیا میں گزارتے ہیں۔یہاں مستقبل لمحہ بہ لمحہ حال میں تبدیل ہورہا ہوتا ہے اور ہمیں یہ تاکید کی گئی ہے کہ ہم دنیا میں اس طور پر زندگی گزاریں کہ مستقبل حال میں تبدیل ہو کر ہمارے لئے تکلیف کا موجب نہ بنے لیکن ایک نہ ختم ہونے والا زمانہ بھی ہے جو اس زندگی میں حال کی شکل اختیار نہیں کرتا اور وہ ہے اُخروی زندگی کا لامتناہی 613