نُورِ ہدایت — Page 605
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اے ایمان والو خدا سے ڈرتے رہو اور ہر ایک تم میں سے دیکھتا ر ہے کہ میں نے اگلے جہان میں کون سا مال بھیجا ہے اور اس خدا سے ڈرو جو خبیر اور علیم ہے اور تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے یعنی وہ خوب جاننے والا اور پر کھنے والا ہے اس لئے وہ تمہارے کھوٹے اعمال ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 225 ، 226) یہ قرآن جو تم پر اُتارا گیا اگر کسی پہاڑ پر اُتارا جاتا تو وہ خشوع اور خوف الہی سے ٹکڑہ ٹکڑہ ہو جا تا اور یہ مثالیں ہم اس لیے بیان کرتے ہیں تا لوگ کلام الہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 63) ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اترتا تو پہاڑ خوفِ خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تا ثیر ہے تو بڑے ہی بے وقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔اور دوسرے اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اول تکبر کو توڑ نا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کوڈ ور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے۔اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ کر کر مُتَصَدِّعًا ہو جاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے۔ایسا ہی اس کے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور 605