نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 606 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 606

الہی نارضامندی کے تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔الحکم جلد 5 نمبر 21 مورخہ 10 / جون 1901 صفحہ 9) وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے۔اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں۔اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلی سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہوسکتا۔وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے۔پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے۔اس کی ذات پر کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپا د یکھ سکتے ہیں مگر خدا کا سراپا دیکھنے سے قاصر ہیں۔پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے۔یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا؟ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔پھر فرما یا هو الرحمن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے، نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کی پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میسر کرتا ہے۔جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے۔اور اس کام کے لحاظ 606