نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 53 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 53

( محمد اور احمد ) کو اپنی دونوں صفات کے ظل اور اپنی دونوں سیرتوں کے مظہر ٹھہرایا ہے تاکہ رحمانیت اور رحیمیت کی حقیقت کو محمدیت اور احمدیت کے آئینہ میں دکھائے۔پھر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کامل افراد جو آنحضرت کی روحانیت کے اجزاء اور حقیقت نبویہ کے اعضاء کی طرح ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ اس نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کو باقی رکھنے کے لئے انہیں ( امت کے کامل افراد کو ) بھی اسی طرح ان دونوں ناموں کا وارث بنائے جیسے اس نے انہیں علوم نبویہ کا وارث بنایا ہے۔پس اُس نے صحابہ کو اسم محمد کے ظن کی ذیل میں داخل کر دیا جو اسم کے جلال کا مظہر ہے اور مسیح موعود کو اسم احمد کے ذیل میں داخل کر دیا جو جمال کا مظہر ہے۔اور ان سب نے اس دولت کو محض ظلیت کے طور پر پایا ہے۔پس حقیقت کی رُو سے اس مقام پر خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور ان دو ناموں کی تقسیم سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہی تھی کہ وہ امت کو تقسیم کرے اور اس کے دو گروہ کردے۔پس اس نے ان میں سے ایک گروہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام مظہر جلال کی مانند بنایا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں جنہوں نے جہاد کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا اور ایک گروہ کو حضرت عیسی علیہ السلام مظہر جمال کی مانند بنایا اور ان کو دل کا حلیم بنایا۔ان کے سینوں میں صلح جوئی ودیعت کی اور ان کو اعلیٰ اخلاق پر قائم کیا اور امت کا یہ گروہ مسیح موعود اور اس کے متبعین ہیں خواہ مرد ہوں یا عورتیں۔پس جو کچھ حضرت موسیٰ نے فرمایا تھا وہ بھی اور جو حضرت عیسیٰ ( علیہما السلام) نے فرمایا تھا وہ بھی پورا ہوا اور اس طرح خدائے قادر کا وعدہ بھی پورا ہو گیا کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آشدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح (30) کہہ کر ان صحابہ کے متعلق پیشگوئی فرمائی تھی جو ہمارے نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم محمد کے مظہر اور خدائے قہار کے جلال کا انعکاس تھے۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صحابہ کے ایک دوسرے گروہ اور ان ابرار کے امام کے متعلق اپنے قول كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطة (الفتح 30) میں اس روئیدگی کی پیشگوئی فرمائی تھی جو کسانوں کو خوش کرتی ہے۔یعنی اس مسیح کے متعلق 53