نُورِ ہدایت — Page 599
الْمُسْلِمِينَ (حم السجدہ (34)۔یعنی اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی جو کہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اور کہے کہ میں یقینا کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس یہ کامل فرمانبرداری جس کی ہر احمدی سے توقع کی جاتی ہے اس وقت ہوگی جب نیک، صالح عمل ہورہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی ہورہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق بھی ادا ہور ہے ہوں گے۔اور پھر ایسے لوگ جب دعوت الی اللہ کرتے ہیں تو ان کی سچائی کی وجہ سے لوگ بھی ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔اور ان نیک کاموں کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بھی منظور نظر ہو جاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی مدد بھی فرماتا ہے۔تبلیغی میدان میں ان کی روکیں دور ہو جاتی ہیں۔وہی مخالفین جو مساجد کی تعمیر میں روکیں ڈال رہے ہوتے ہیں وہی جو مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وہی جو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کے علاقے میں مسلمان عبادت کی غرض سے جمع ہوں جب آپ کے عمل دیکھیں گے، آپ کی عبادتیں دیکھیں گے، آپ کی پیشانیوں پر ان لوگوں کو نشان نظر آئیں گے جن سے مومن کی پہچان ہوتی ہے۔۔۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے پھر اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ تم ایسے کام کرو گے اور تم اپنا ہر فعل خدا کی خاطر کرو گے اور کامل فرمانبردار بن جاؤ گے تو پھر تمہاری ان کوششوں کو اللہ تعالیٰ اس طرح پھل لگائے گا کہ جو تمہارے دشمن ہیں وہ بھی تمہارے دوست بن جائیں گے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِى حَمِيمٌ ( حم السجد 358) کہ ایسی چیز سے دفاع کر جو بہترین ہو۔تب ایسا شخص جس کے اور تیرے در میان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔پس بہترین دفاع اسلام کی خوبصورت تعلیم سے، اور اس تعلیم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے سے ہوگا۔یہ سب الزامات جو آج اسلام پر لگائے جاتے ہیں اُن کو عملی نمونے کے ساتھ دھونے کے لئے ، اس پیغام کو پہنچانا بہت ضروری ہے۔599