نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 597 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 597

انقلاب جس شان سے ظاہر ہوا ہے کسی نبی کی تاریخ میں اس کا عشر عشیر بھی آپ کو نظر نہیں آئے گا۔حیرت انگیز انقلابات ہیں، شدید دشمنوں کا عظیم دوستوں میں تبدیل ہو جانے کی بکثرت مثالیں ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔حسن عمل میں حکمت بھی ضروری ہے۔حکمت کے ساتھ ایسا فعل کریں جو صرف ظاہر میں اچھا نظر نہ آئے بلکہ اس کے حسن میں گہرائی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی کسی بھی حکمت کا دامن چھوڑ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا کرتے تھے ہر فیصلہ کے پیچھے حکمت کارفرما ہوتی۔آپ کا ہر فیصلہ بڑا گہرا اور حکمت کا سر چشمہ دکھائی دیتا ہے۔آپ کسی واقعہ پر ٹھہر کر غور کریں اور اس کے اندر تہ تک غوطہ ماریں آپ کو موتی مل جائیں گے۔آپ تلاش کریں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جس کے اندر گہرے حکمت کے موتی پوشیدہ نہ ہوں۔غرض یہ وہ طریق تبلیغ ہے جو قرآن کریم نے سکھایا اور یہ وہ نتائج ہیں جو قرآن کریم کے بیان کے مطابق لازماً نکلا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی نکلے۔ہم نے بھی اپنی آنکھوں سے بارہا یہ نتیجے نکلتے دیکھتے ہیں۔ابھی چند ہفتے ہوئے لاہور میں اکٹھے بیٹھنے کا موقعہ ملا۔کسی گھر میں مدتوں سے ایک خاتون رہ رہی تھیں وہ احمدی نہیں ہوتی تھیں۔مطالعہ بھی کرتی رہیں بخشیں بھی کرتی رہیں۔اب جب وہ احمدی ہوئیں تو اس وقت پھر اس آیت فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ کا جلوہ ہم نے دیکھا۔چنانچہ وہ احمدی ہونے کے بعد کئی دن روتی رہیں کہ میں احمدی تو ہوگئی ہوں مگر جو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیا کرتی تھی میں بخشی بھی جاؤں گی یا نہیں۔مجھے یہ دکھ ہو رہا ہے۔شدید بے قرار تھی۔ان کے گھر والوں نے تسلی دی ، پیار کا سلوک کیا، تب بڑی مشکل سے ان کو اطمینان نصیب ہوا۔پس یہ کوئی ایسی آیت نہیں جو گزشتہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہو۔یہ تو ایک جاری وساری زندہ آیت ہے کیونکہ وہ لوگ جن کے ساتھ اس کا واسطہ تھا وہ مسلسل حسن سلوک کرتے رہے، انہوں نے مخالفتیں بھی برداشت کیں، گالیاں بھی سنیں لیکن انہوں نے کوڑی کی بھی پرواہ نہیں 597