نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 596 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 596

سیکھنا چاہتے ہو کہ صبر ہوتا کیا ہے تبلیغ کس طرح کی جاتی ہے، دعوت الی اللہ کیا ہوتی ہے ، عمل صالح کیا ہوتا ہے اور بدی کو حسن میں تبدیل کرنے کا مضمون کیا ہے؟ تو خلاصہ کلام یہ کہ ذُو حَطٍ عَظیم یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو۔وہ صرف صبر میں ذُو حظ عظیم نہیں ہیں بلکہ اس مضمون کی ہر شاخ میں ذُو حظ عظیم ہیں۔داعی الی اللہ کے لحاظ سے بھی دعوت کا سب سے بڑا حصہ آپ کو عطا کیا گیا۔عمل صالح کے لحاظ سے بھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ بنتے ہیں۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کے مضمون کے لحاظ سے بھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ذُو حظ عظیم بنتے ہیں اور پھر وہ پھل پانے کے لحاظ سے کہ اچانک دشمن دوستوں میں تبدیل ہوئے اس لحاظ سے بھی آپ ذُو حظ عظیم بنتے ہیں اور صبر کے اعلیٰ مظاہروں کے لحاظ سے بھی آپ ذُو حَق عَظِیمٍ بنتے ہیں۔پس سیرت طیبہ جو تبلیغ کا طریق سکھاتی ہے اس طرف انگلی اٹھا کر بات ختم کر دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ ہمیشہ تبلیغ کے نتیجہ میں جب آپ کو دکھ دئیے گئے تو نہ آپ تبلیغ سے باز آئے نہ دکھ دینے والوں کو بددعائیں دیں ، نہ ان سے خوف کھایا اور نہ کسی پہلو سے بھی اپنا پیغام پہنچانے سے باز آئے۔باوجود اس کے کہ سوسائٹی نے آپ کا انکار کیا، آپ سوسائٹی میں حسن پیدا کرتے چلے گئے اور یہ عمل جاری رہا یہاں تک کہ آپ کے ساتھ اور صبر والے شامل ہو گئے اور دکھ اٹھانے والے ملنے شروع ہو گئے اور دکھ اٹھانے والوں کا یہ قافلہ آگے بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ انقلاب آیا جس کے متعلق فرمایا کہ تم یہاں بیٹھ کے آج مڑا کر تاریخ کو دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو اچانک ہو گیا اچانک نہیں ہوا تھا۔اس کے پیچھے تو بہت خون بہائے گئے تھے، امنگوں کے خون، جذبات کے خون، اپنے عزیزوں کے خون دینے سے دریغ نہیں کیا گیا تھا، اپنی تمام خواہشات ان اعلی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دی گئیں تھیں یہ صبر جب لمبا ہوا تب اللہ تعالیٰ کی قدرت نے وہ پھل لگایا جس کے متعلق فرماتا ہے۔فرماتا ہے فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ عظیم الشان 596