نُورِ ہدایت — Page 582
عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ اور ملائکہ کا یہ وعدہ کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے ان کے حق میں پورا ہوتا ہے لیکن یہ وعدہ ایک اور پہلو سے بھی پورا ہوتا ہے جو اس سے زیادہ اہم ہے اور جو مقصود بالذات ہے، وہ پہلو یہ ہے کہ ملائکہ جن لوگوں کے دوست ہوں ان کا وہ تزکیہ کرتے ہیں۔ان کا نفس پہلے کی نسبت اور زیادہ پاک ہونے لگتا ہے کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ملائکہ گندے لوگوں کے ساتھ دوستی کر کے بیٹھ جائیں۔اور یہ جو وعدہ ہے کہ ہم تمہارا ساتھ چھوڑیں گے نہیں ، اس میں یہ بھی خوشخبری ہے کہ جو قو میں ابتلاؤں کے دور سے گزرتی ہیں ان کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور ایسا تزکیہ نفس ہوتا ہے کہ پھر وہ جاری رہتا ہے اور قائم رہتا ہے وہ ایسے اعمال صالحہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے ، اس کا طبعی نتیجہ نکالا گیا ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مَنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا ( حم السجدة34) یہ وہ لوگ ہیں جو ابتلاؤں کی چکی میں سے کامیابی کے ساتھ گزر کر جاتے ہیں۔ان کو فرشتوں کی معیت نصیب ہوتی ہے۔فرشتے کہتے ہیں ہم تمہارے اولیاء ہیں یعنی فخر فرشتے کر رہے ہوتے ہیں نہ کہ یہ لوگ یہ بھی عجیب طرز کلام ہے، بڑے آدمی کے پاس ہمیشہ چھوٹے آدمی آیا کرتے ہیں اور ان کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے دوست ہیں تو خدا کے فرشتے بھی اسی طرح ان لوگوں کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں اس لئے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ ہم اپنی دوستی تمہارے حضور پیش کریں اور تم ہماری دوستی میں ہمیشہ وفا پاؤ گے۔ہم کبھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔اس کا ایک طبعی نتیجہ یہ ہے کہ عمل صالح ان کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ان کے اندر جو پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں وہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑا کرتیں اور جن کی پاک تبدیلیاں ان کا ساتھ چھوڑ دیں ان پر فرشتے نازل نہیں ہوا کرتے۔یہ لازم وملزوم چیزیں ہیں اس لئے جو قوم ابتلاؤں سے گزر کر وقتی طور پر اصلاح پذیر ہو جائے اور کچھ دیر کے بعد پھر انہی برائیوں میں ملوث ہو جائے اس پر آیت قرآنی نَحْنُ اَولِیتُكُم في الخيوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ کا اطلاق نہیں 582