نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 564 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 564

ہم بڑی بھوک محسوس کرتے تھے۔پس رات کا کھانا دن کی سیری کا سبب نہیں بنا کرتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ایک وقت میں تعلق کو قائم کر کے اس کے پیار کو وقتی طور پر حاصل کرلینا۔اس دنیا میں آئندہ زمانہ کی سیری کے سامان نہیں پیدا کیا کرتا۔اُس دنیا کے حالات تو تفصیلاً ہم جانتے نہیں اس لئے ہم اس دنیا کی بات کریں گے۔جس طرح اس دنیا میں کھانے کی بار بار ضرورت پڑتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کی نگاہوں کی ہمیں بار بار ضرورت پڑتی ہے اور وہ پیار کی نگاہیں قربانی اور ایثار کے بغیر ہم حاصل نہیں کر سکتے۔غرض استقامت کے معنی ہیں کہ جب تعلق قائم کر لیا تو پھر وہ ٹوٹے گا نہیں اور وہ اتنا پختہ ہے کہ دنیا جتنا چاہیے زور لگا لے وہ ٹوٹ نہیں سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ یہ لوگ میرے بڑے ہی محبوب اور پیارے بندے ہیں۔یہ مجھ سے چمٹ گئے ہیں اور اب تم ان کو میرے دامن سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔نیز دنیا کو دکھانے کے لئے اور ان کو سبق دینے کے لئے کہ میں اپنے بندوں پر بلائیں بھی نازل کرتا ہوں انہیں بلاؤں میں ڈالتا ہے۔وہ خاموشی بھی اختیار کرتا ہے اور ماں کی طرح کبھی یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ جاؤ میں تم سے ناراض ہوں اور اس ناراضگی کے آثار کے پیچھے مسکراہٹیں جھلک رہی ہوتی ہیں۔دیکھنے والی آنکھ وہ دیکھتی ہے لیکن دنیا یہ سمجھتی ہے کہ خدا اس سے کلام کرتا تھا لیکن آج وہ اس کو بھول گیا۔اللہ تعالیٰ اس پر رحمت اور پیار کی نگاہ رکھتا تھا لیکن آج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا لیکن اس نے اس سے منہ اس لئے نہیں پھیرا کہ وہ اس سے ناراض تھا۔اس نے اس سے منہ اس لئے نہیں پھیرا کہ اس کو اور دنیا کو اس امتحان اور غصہ کے پیچھے اور ان آفات کے ماورا خدا کا پیار اور رضا نظر نہ آئے وہ اپنا غصہ بھی دکھاتا ہے اور انسان کو آزماتا بھی ہے اور اس سے وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ میرا حسن اور احسان اور میری محبت اور میری رضا ایسی زبر دست تاثیر رکھنے والی ہے کہ جب وہ کسی انسان کو مل جاتی ہے تو وہ اس کے بعد مجھ سے پرے نہیں ہوتا۔دنیا جو چاہے کرے وہ اس کو میرے دامن سے چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ ہے استقامت۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 564