نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 563 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 563

ہے کہ اپنے اس رب کو پہچانے لگیں اور اس کا عرفان رکھنے لگیں جو رب بھی ہے اور دیگر بہت سی صفات حسنہ سے متصف ہے اور جب اس کا حسن ہم پر جلوہ گر ہوتا ہے تو ہمارے ذہن دنیا کی ساری خوبصورتیوں کو بھول جاتے ہیں اور جب ہم اس کے احسان کو پہچاننے لگتے ہیں تو ہم اس حقیقت کو پاتے ہیں کہ وہی ایک محسن حقیقی اور معطی حقیقی ہے اور جتنے دوسرے وجود بظاہر ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں پر احسان کر رہے ہیں وہ بھی اسی کی توفیق ، اسی کے منشاء اور حکم سے احسان کی طاقت اور قوت پاتے ہیں ورنہ خود ان کے اپنے وجود میں کوئی بھی ایسا نہیں اور قابلیت نہیں اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو انہوں نے اپنے زور سے اور اپنی طاقت سے حاصل کی ہو جس ہنر اور قابلیت کے نتیجہ میں وہ احسان کا ارادہ کریں اور جس چیز کو لے کر وہ دوسرے پر احسان کریں اور اسی کو عطا کریں۔غرض نہ وہ چیز جو ان کے پاس ہے ان کی اپنی یا ان کے اپنے زور سے حاصل کردہ ہے اور نہ ان کی احسان کی قوت اور ارادہ اور خواہش اپنی ہے۔یہ سب کچھ ربنا اللہ اللہ کی توفیق سے ہی میسر آتا ہے جو ہمارا رب ہے۔کئی لوگ دوسروں کو عطا کرتے ہیں اور صفات باری سے عملی طور پر متصف ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے قرب کو پاتے اور اس کو پہچانتے اور اس کا عرفان حاصل کرتے ہیں اور ان کے لئے عید کے دن اور عید کے اوقات مقرر کئے جاتے ہیں۔۔دوسرا بڑا ذریعہ یا سامان جس کے نتیجہ میں انسان کے لئے حقیقی عید یا خوشی پیدا ہوتی ہے وہ استقامت ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا استقامت کے معنی یہ ہیں کہ وقتی طور پر اور عارضی طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا سوال نہیں بلکہ جب اپنے رب کو اور اپنے اللہ کو پہچان لیا تو اس کی کامل اطاعت اور مسلسل اطاعت اور ہمیشہ کی اطاعت اور ہمیشہ کا پختہ تعلق اس سے ضروری ہے کیونکہ جو آج کھاتا ہے اور کل بھوکا رہتا ہے اس کو سیر نہیں کہا جاسکتا۔رمضان میں ہم نے یہ سبق بھی سیکھا ہے ہم دن کو بھوکا ر ہتے تھے اور رات کو ہم کھاتے تھے اور جتنا چاہتے تھے کھاتے تھے اور دن کو ہم بھو کے رہتے تھے تو 563