نُورِ ہدایت — Page 562
یا تمہارے پہلے کی نسبت زیادہ قریب ہو گئی ہے اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انسان کے لئے جنت پیدا کرتا ہے اور حقیقتاً اس دنیا کی جنت کو ہی ہم ایک عظیم جسمانی اور روحانی انقلاب کے بعد اپنے ساتھ برزخ کی دنیا میں لے کے جاتے ہیں۔لیکن عام طور پر وہ جنت آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے لیکن اس جنت کی وجہ سے جو خوشی پیدا کی جاتی ہے اسے بچہ بھی اپنی عمر کے لحاظ سے محسوس کرتا ہے اسے پاگل بھی اپنی عقل کے مطابق مناتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے یہاں اس آیت میں ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو خوشیوں سے بھر لو اور عید مناؤ۔اس لئے کہ دو قسم کی عید کے سامان آج تمہارے لئے پیدا کئے گئے ہیں ایک معرفت الہی کا سامان جیسے فرمایا ان الَّذِينَ قَالُوا ربنا الله اس میں عرفان الہی کے سامان کی طرف اشارہ ہے کہ وہ لوگ جو علی وجہ البصیرت اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے رب کی معرفت اپنی استعداد کے مطابق حاصل کی اور ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم سب کا رب وہ ہے جس نے ہمیں پیدا کیا جس نے ہمارے جسموں کو اور ہماری روحوں کو اور جس نے ہمارے جسم کے مختلف خواص اور ہماری روح کی مختلف صفات کو پیدا کیا اور جو ان صفات اور ان خواص کو پیدا کرنے کے بعد ان خواص اور ان صفات کو ان کے دائرہ استعداد میں اور ان کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کا متکفل ہوا اور ذمہ وار بنا۔وہی ہمارا رب ہے اس کے علاوہ ہمارا کوئی اور رب ہو ہی نہیں سکتا۔عقلاً بھی نہیں ہوسکتا اور پھر فطرت انسانی بھی اس کو دھتکارتی ہے اور جو وحی آسمانی اللہ تعالیٰ نے نازل کی اس سے تو ہمارے سامنے یہ چیزیں بڑی وضاحت کے ساتھ آجاتی ہیں کہ ربنا اللہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہ ہستی جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور جس کے اندر کوئی عیب نہیں پایا جا تا ہی ربوبیت کا سزاوار ہے اور اہل اور مستحق ہے اور اسی کو رب سمجھنا چاہئے اور رب اپنے وجود میں محسوس کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان خوشی کے سامانوں کا ایک ذریعہ بنتا ہے کیونکہ یہ ایک ابتدائی اور بنیادی چیز ہے بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ سب سے بڑا سامان ہماری خوشیوں کا یہی 562