نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 48 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 48

پھول اور خوشبوئیں پیدا کیں اور یہ ایسی رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے لئے مہیا فرمایا۔اس میں متقیوں کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔یہ عمتیں بغیر کسی عمل اور بغیر کسی حق کے اس بے حد مہر بان اور عظیم خالق عالم کی طرف سے عطا ہوئی ہیں۔اور اس عالی بارگاہ سے ایسی ہی اور بھی بہت سی نعمتیں بخشی گئی ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔مثلاً صحت قائم رکھنے کے ذرائع پیدا کرنا اور ہر بیماری کے لئے علاج اور دواؤں کا پیدا کرنا۔رسولوں کا مبعوث کرنا اور انبیاء پر کتابوں کا نازل کرنا یہ سب ہمارے رب ارحم الراحمین کی رحمانیت ہے۔یہ خالص فضل ہے جو کسی کام کرنے والے کے کام یا گریہ وزاری یا دُعا کے نتیجہ میں نہیں ہے لیکن رحیمیت وہ فیض الہی ہے جو صفت رحمانیت کے فیوض سے خاص تر ہے۔یہ فیضان نوع انسانی کی تکمیل اور انسانی فطرت کو کمال تک پہنچانے کے لئے مخصوص ہے لیکن اس کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا، عمل صالح بجالانا اور جذبات نفسانیہ کو ترک کرنا شرط ہے۔یہ رحمت پورے طور پر نازل نہیں ہوتی جب تک اعمال بجالانے میں پوری کوشش نہ کی جائے اور جب تک تزکیہ نفس نہ ہو اور ریا کوگالی طور پر ترک کر کے خلوص کامل اور طہارتِ قلب حاصل نہ ہو اور جب تک خدائے ذوالجلال کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر موت کو قبول نہ کر لیا جائے۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں ان نعمتوں سے حصہ ملا۔بلکہ وہی اصل انسان ہیں اور باقی لوگ تو چار پائیوں کی مانند ہیں۔یہاں ایک مشکل سوال ہے جسے ہم اس جگہ مع جواب لکھتے ہیں تا کہ عقلمند اس میں غورو فکر کر سکیں اور وہ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ میں اپنی تمام صفات میں سے صرف دوصفات الرحمن اور الرحیم کو ہی اختیار کیا ہے اور کسی اور صفت کا اس آیت میں ذکر نہیں کیا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ( یعنی اللہ ) تمام ان صفات کا ملہ کا مستحق ہے جو مقدس صحیفوں میں مذکور ہیں۔پھر کثرت صفات تلاوت کے وقت کثرت برکات کو مستلزم ہے۔پس بسم اللہ کی آیت کریمہ اللہ کی کثرت صفات کے بیان کے مقام اور مرتبہ کی زیادہ حقدار اور سزاوار ہے اور حدیث نبوی میں ہرا ہم کام شروع کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا 48