نُورِ ہدایت — Page 47
ماہیت پر دلالت کرتا ہے۔اور اللہ اس ذات الہی کا نام ہے جو تمام کمالات کی جامع ہے۔اور اس جگہ الر حمن اور الرَّحِيم دونوں اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ دونوں صفتیں اللہ کے لئے ثابت ہیں جو ہر قسم کے جمال اور جلال کا جامع ہے۔پھر لفظ الرحمن کے ایک اپنے بھی خاص معنی ہیں جو الرّحِیم کے لفظ میں نہیں پائے جاتے اور وہ یہ ہیں کہ اذنِ الہی سے صفت آل محمن کا فیضان انسان اور دوسرے حیوانات کو قدیم زمانہ سے حکمتِ الہیہ کے اقتضاء اور جوہر قابل کی قابلیت کے مطابق پہنچتا رہا ہے۔نہ کہ مساوی تقسیم کے طور پر اور اس صفت رحمانیت میں انسانوں یا حیوانوں کے قویٰ کے کسب اور عمل اور کوشش کا کوئی دخل نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا خالص احسان ہے جس سے پہلے کسی کا کچھ عمل بھی موجود نہیں ہوتا اور یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عام رحمت ہے جس میں ناقص یا کامل شخص کی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔حاصل کلام یہ ہے کہ صفت رحمانیت کا فیضان کسی عمل کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ کسی استحقاق کا شمرہ ہے بلکہ یہ ایک خاص فضل ایزدی ہے جس میں فرمانبرداری یا نا فرمانی کا دخل نہیں اور یہ فیضان ہمیشہ خدا تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے ماتحت نازل ہوتا ہے۔اس میں کسی اطاعت، عبادت، تقویٰ اور زہد کی شرط نہیں۔اس فیض کی بنا مخلوق کی پیدائش، اس کے اعمال، اس کی کوشش اور اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی رکھی گئی ہے۔اس لئے اس فیض کے آثار انسان اور حیوان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی پائے جاتے ہیں اگر چہ یہ فیض تمام مراتب وجود اور زمان و مکان اور حالتِ طاعت و عصیان میں جاری وساری رہتا ہے۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت نیکو کاروں اور ظالموں سب پر وسیع ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا چاند اور اس کا سورج اطاعت گزاروں اور نافرمانوں کبھی پر چڑھتا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے مناسب حال قومی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس نے ان سب کے معاملات کا ذمہ لیا ہے اور کوئی بھی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں۔اسی نے ان کے لئے درخت پیدا کئے اور ان درختوں سے پھل 47