نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 541 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 541

کے لئے تیار ہوتی ہے لیکن ان کا ماحول اور ان کا جسم اس کے لئے تیار نہیں ہوتا ان کوفتنہ اور امتحان سے بچانے کے لئے ان کے مال کا ایک حصہ قبول کر لیا جاتا ہے اور ایک حصہ واپس کر دیا جاتا ہے۔پس مومن کی مادی کوشش دنیا میں حدود سے ورے ختم نہیں ہو جاتی اور اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ ضَلَّ سَعْيُهُمُ في الحيوةِ الدُّنْيَا کیونکہ روپیہ وہ خرچ کرتے ہیں زندگی کا ہرلمحہ جو وہ گزارتے ہیں اخلاق کا ہر مظاہرہ ان سے سرزد ہوتا ہے بچوں سے محبت اور پیار کا سلوک جو دنیا ان سے دیکھتی ہے اس کے پیچھے یہی روح کام کر رہی ہوتی ہے کہ جس نے خدا کی رضا کے لئے اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالا اس نے بھی ثواب حاصل کر لیا۔غرض مومن اپنے ہر دنیوی کام کو اخروی جزا اور اخروی نعماء کے حصول کا ذریعہ بنالیتا ہے اور اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ في الحیوۃ الدنیا والے گروہ میں ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 212 تا 214) حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ 1974ء کے موقع پر 28 دسمبر کو اپنے اختتامی خطاب میں فرمایا: قرآن کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ہم سے کیا تعارف کروایا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارا کیا ایمان ہے۔قرآن کریم نے ایک ہی وقت میں ہمیں دو باتیں بتائی ہیں ایک طرف ہمیں یہ کہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں دیگر جو بشر ہیں ان کی طرح چنانچہ فرمایا : قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا مساوات انسانی کا ایک بڑا ہی عظیم نعرہ چودہ سو سال پہلے لگایا گیا اس وقت تک انسان نے اس کی عظمت اور اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ہم حیران ہوتے ہیں کہ اپنے آپ کو بڑے بڑے عقلمند کہنے والے انسانی مساوات کی حقیقت اور اس کی تعریف کو سمجھتے ہی نہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان نہ کسی ماں نے ویسا بچہ جنا اور نہ جن سکتی ہے اتنی عظمتوں والے انسان کے منہ سے قرآن کریم نے یہ کہلوا يا قل انما انا بشر 541