نُورِ ہدایت — Page 538
کے حکم کے مطابق اور اس کی ہدایت کی روشنی میں جولوگ اپنے اموال کو اور اپنی طاقتوں کو اپنی قوتوں اور استعدادوں کو اور اپنی اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کو اجا گر کرتے اور خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق خداداد قوتوں کی نشو ونما کرتے ہیں وہ عقل سے کام لینے والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے وَ عَلَى رَبِّهِمُ يَتَوَكَّلُونَ یعنی انہوں نے اپنی انتہائی کوشش کی خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول میں مگر نتائج کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر چھوڑ دیا۔دراصل ایمان کے معنے عقیدہ کا ایمان اور زبان سے اس کا اقرار اور اس کے مطابق عمل کرنا یہ سب چیزیں لغت عربی کے مطابق لفظ ایمان میں شامل ہیں۔تو جو شخص ایمان لاتا اور مومنانہ زندگی گزارتا ہے اور اس کے دل میں پاکیزگی پائی جاتی ہے اور کھوٹ نہیں اور ملاوٹ نہیں اور نفاق نہیں اور فساد نہیں ہوتا اور اعمالِ صالحہ بجالاتا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہی کافی نہیں ، جب تک خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے خاتمہ بالخیر نہ کرے اور اپنے فضل اور رحمت سے جنتوں کے سامان نہ پیدا کرے محض اعمال کوئی چیز نہیں۔۔۔چنانچہ صحیح جہت کی طرف سائنس کی ہر ترقی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مخلوق خدا انسان کی ایک نئی شکل میں خدمت کر رہی ہے۔ہر سائنسی انکشاف (Scientific Discovery) سے پتہ لگتا ہے کہ کتنا عظیم اعلان تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمایا تھا۔وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجانيه 14) لیکن پھر بھی ان سائنسدانوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے اور اس دنیا کے متاع اور اس کی زینت کو کافی سمجھتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس دنیوی متاع اور اس کی زینت کے نتیجہ میں اخروی متاع کے سامان پیدا کرنے کے لئے اور اُخروی زندگی کے حسن کے حصول کے لئے کوشش کرتے ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الحيوة الدنیا دنیوی عیش و آرام میں پڑ جاتے ہیں جو کہ وقتی ہے اور اس میں حقیقی لذت بھی نہیں مگر پھر بھی ایسے لوگ اپنا سب کچھ دنیوی لذتوں کی خاطر برباد کر دیتے ہیں اور خدا سے ڈوری کی راہیں ان کو خدا کے غضب کی جہنم کی طرف لے جاتی ہیں لیکن وہ لوگ بھی ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس شریعت پر جو محمد رسول اللہ 538