نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 532 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 532

بات سے نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی اس رنگ میں گزاریں کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کو حاصل کرنے والے ہوں۔زمین کی طرف وہ جھک گئے اور دنیا سے انہوں نے تسلی پالی اور ایک عارضی خوشی جو تھی اس دنیا کی اسی کو سب کچھ سمجھ لیا اور ابدی خوشیوں کو اس عارضی خوشی پر قربان کر دیا۔حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ان کے اعمال گر کر اسی دنیا کے ہو کر رہ گئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لیکن صرف یہ زندگی تو نہیں۔اس کے بعد ایک اور زندگی ہے اور اس کو قرآن کریم کی اصطلاح میں قیامت کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے یعنی مرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیامتہ کہ جو شخص انفرادی طور پر مرے اسی وقت اس کی ایک قیامت ہو جاتی ہے لیکن ایک وہ ہے جب حشر ہوگا اور سارے اکٹھے کئے جائیں گے اور خدا کا پیار حاصل کریں گے یا اس کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ان کے وہ اعمال جو دنیا کے لئے کئے گئے ہوں گے اور جن کے نتیجہ میں خدا کے پیار کو حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوگی بے وزن ہوں گے ان کا کوئی وزن نہیں ہوگا، بے نتیجہ ہوں گے ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، لا حاصل ہوں گے ان سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔زندگی کا مقصد تھا کہ خدا تعالیٰ کے عبد بنتے ، اس کے پیار کو حاصل کرتے، ابدی جنتوں کے وارث بنتے وہ ان کے وارث نہیں بنیں گے۔یہ ہے جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ یہ جہنم ہے یعنی کہا کہ فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنا قیامت کے دن ہمارا پیارا نہیں حاصل نہیں ہوگا۔ذلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ یہ جہنم ان کی جزا ہے اور اس لئے ہے کہ انہوں نے انکار کیا آیات کا۔خدا تعالیٰ نے جو دو قسم کی آیات جیسا کہ میں نے بتایا نازل کی تھیں انسان کی ہدایت کے لئے ایک اپنے ان جلووں کے ذریعے جو اس نے کائنات میں کئے اور جن سے اس کی عظمت ثابت ہوتی ہے، جن سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے ہر ذرے کے ساتھ ایک ذاتی اور ہمیشہ رہنے والا تعلق قائم ہے جس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ ایک لحظہ کے لئے اگر 532