نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 516 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 516

کر بیان ہوئی ہے اشارہ فرمایا گیا ہے اور وہ اشارہ صَعِيدًا جُرُزًا کے الفاظ میں ہے۔صعِيدًا کے معنے اس زمین کے ہوتے ہیں جس میں سے درخت وغیرہ کٹ جائیں۔چنانچہ عرب کا محاورہ ہے صَارَتِ الْحَدِيقَةُ صَعِيدًا (تاج) باغ اُجڑ گیا اس کے درخت فنا ہو گئے۔اور جرز کے معنی بھی اس زمین کے ہوتے ہیں جس کی سبزی تباہ ہوگئی ہو۔آگے چل کر جہاں دو باغوں کی تمثیل دی گئی ہے (کہف رکوع (5) وہاں بھی متکبر باغوں والے کو اس کا ناصح بھائی کہتا ہے کہ تو تکبر نہ کر۔ایسا نہ ہو کہ آسمانی عذاب نازل ہو کر تیرے باغوں کو صَعِید از لقا بنادے۔صعِيدًا کا لفظ تو وہی ہے جو یہاں استعمال ہوا ہے۔جُرُزًا کی جگہ وہاں زلفا کا لفظ رکھا گیا ہے۔اور اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ جہاں کوئی کھیتی نہ ہو۔عرب کہتے ہیں کہ ارض زلفی ایسی زمین جس پر کوئی کھیتی نہ ہو۔پس اس آیت سے اس طرف اشارہ ہے کہ آگے جو تمثیل بیان کی گئی ہے مسیحی قوم بھی اس میں شامل ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے لگائے ہوئے باغوں کو تباہ کردے گا۔الْكَهْفُ كَالْبَيْتِ الْمَنْقُورِ فِي الْجَبَلِ گھر کی شکل پر پہاڑ میں کھود کر بنایا ہوا مکان۔اس کی جمع کھوف آتی ہے۔غار اور گھف میں یہ فرق ہے کہ گھف وسیع ہوتی ، ہے اور غار تنگ - اَلْكَهْفُ أَيْضًا الْوَزْرُ حفاظت کی جگہ الْمَلْجَأُ۔پناہ کی جگہ۔الرَّقِيمُ : الْكِتَابُ الْمَرْقُوْمُ - لکھی ہوئی چیز۔اصحاب الرقیم کے معنے ہوں گے۔نقش یا تصویر میں بنانے والے لوگ۔مفسرین نے لکھا ہے کہ پتھر یا لوہے پر کھو دنے والے لوگ۔تو اس لحاظ سے یہ معنے ہوں گے پتھروں پر یا کاغذوں پر لکھنے والے یا نقش و نگار کرنے والے یا تصویر میں بنانے والے یا کھودنے والے۔رقيم بمعنے مرقوم بھی ہو سکتا ہے۔اس لحاظ سے اصحاب الرقیم کے معنے ہوں گے جن کے پاس لکھی ہوئی چیزیں ہوں۔یعنی کتابیں یا سامان جن پر نام لکھا ہوا ہو یا کتبوں والے وغیرہ وغیرہ۔عجبا 1۔جب کوئی ایسا امر پیش آئے کہ اس کے ماننے میں طبیعت کو انقباض اور انکار ہو تو اس 516