نُورِ ہدایت — Page 515
کوئی چیز لغو نہیں۔اگر بعضها زینہ ہوتا تو یہ خیال کیا جاسکتا تھا کہ بعض اشیاء مفید ہیں اور بعض غیر مفید مگر اللہ تعالیٰ سب اشیاء کو جو دنیا پر ہیں دنیا کے لئے زینت کا موجب قرار دیتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ اسلام کے نزدیک دنیا کی ہر شے میں فوائد ہیں اور وہ ایک حسن یعنی خوبی اپنے اندر رکھتی ہے اور کوئی بھی چیز نہیں جو دنیا کا حسن بڑھانے والی نہ ہو۔افسوس کہ اس حکم سے مسلمانوں نے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیا اور تحقیق اور ایجاد کے کام کو نظر انداز کر دیا۔اور یورپ نے باوجود قرآن کریم کو نہ ماننے کے اس حکم پر عمل کیا اور علم میں اس قدر ترقی کی کہ ساری دنیا پر غالب آگئے۔لِتَبْلُوهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا کی اشیاء اس لئے پیدا کی گئی ہیں تا کہ لوگ ان کے متعلق تحقیق کریں، دنیا کی حالت کو سدھاریں۔اس حصے کے متعلق مسیحیوں سے کوتاہی ہوئی ہے۔انہوں نے دنیا کے راز تو دریافت کئے مگر اچھے عمل کا نمونہ نہ دکھایا۔یعنی اس تحقیق اور تدقیق کے نتیجہ میں انہوں نے دنیا میں ظلم اور فساد کی بنیا درکھ دی اور غالباً اس طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔فرمایا وہ دنیا کا سامان تو ایک عارضی چیز اور عارضی سامان ہے۔حقیقی نہیں۔صرف قومی مقابلہ کا ایک ذریعہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے تا بنی نوع انسان کی خدمت کر کے ثواب حاصل کریں لیکن مسیحی لوگ اس غرض کو پوری نہ کریں گے۔خدا کے پیدا کئے ہوئے سامانوں کی جستجو تو کریں گے لیکن ان کو حسن عمل کا ذریعہ نہ بنائیں گے اور لڑائی جھگڑے کا ذریعہ بنالیں گے۔پس چونکہ ہمارا مقصد تو ان اشیاء کے پیدا کرنے سے دنیا کو زینت دینا ہے چونکہ وہ مقصد ان کی تحقیقاتوں اور ایجادوں سے پورا نہ ہوگا۔ہم ان کے کام کو مٹادیں گے۔غرض اس جگہ سب دنیا کی تباہی مراد نہیں بلکہ ان کاموں کی تباہی مراد ہے جو اللہ کا بیٹا بنانے والی قوم کرے گی۔اس آیت کے الفاظ میں نہایت لطیف طور پر ایک تمثیل کی طرف جو اس سورۃ میں آگے چل 515