نُورِ ہدایت — Page 514
مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِأَبَاعِهِمْ اندار کی خبر دیتے ہوئے مسیحیت پر ایک کاری ضرب بھی لگادی۔فرماتا ہے کہ بیٹا تو خدا کا بناتے ہیں لیکن بیٹا ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس موجود نہیں۔نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھی۔یعنی باپ داووں نے یہ دیکھتے ہوئے کہ مسیح کے حواری اور ان کے شاگردموجد تھے شرک بعد میں پیدا ہوا ہے اسے خدا کا بیٹا بنادیا اور ان کے پاس اعلیٰ توحید کی تعلیم اسلام نے پیش کردی ہے اور مشرکانہ خیالات کا پوری طرح قلع قمع کردیا ہے۔مگر نہ پہلوں نے اپنی آنکھوں دیکھی باتوں سے فائدہ اٹھایا اور نہ بعد میں آنے والوں نے اسلام کے دلائل سے نفع حاصل کیا۔دونوں گروہوں نے بغیر دلیل اور بغیر ثبوت کے اپنے رب کو چھوڑ کر ایک انسان کو خدا بنالیا۔إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا الَّا كَذِباً کہہ کر بتایا کہ خود مسیح بھی اس قسم کی اہنیت سے منکر ہے۔چنانچہ موجودہ اناجیل سے بھی مسیح کے خدا کا بیٹا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔بیشک مسیح علیہ السلام کی نسبت بیٹے کے الفاظ آتے ہیں لیکن یہ الفاظ دوسرے انسانوں کے لئے بھی آتے ہیں۔چنانچہ خروج باب 2 آیت 22 میں لکھا ہے کہ خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ پلوٹھا بیٹا ہے“۔فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ کے معنی ہیں۔۔۔کہ شائد تو اپنے نفس کو ان کے اسلام میں داخل ہونے کی شدید خواہش سے ہلاکت میں ڈال دے گا إنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا فرماتا ہے ہم نے دنیا میں ہزاروں چیزیں پیدا کی ہیں اور غرض یہ ہے کہ انسان کے لئے ایک شغل پیدا کریں تا وہ ان اشیاء کو دریافت کرے پھر ان سے کام لے۔اور زینة کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز کوئی نہ کوئی فائدہ رکھتی ہے۔کوئی بھی ایسی چیز نہیں جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔اسی ایک لفظ سے کس طرح اس نکتہ کو واضح کر دیا گیا ہے کہ دنیا کی 514