نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 502 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 502

ہوں گے ظاہر او باطنا اچھے طور پر داخل کرنا۔صدق کے معنی بتائے جاچکے ہیں یعنی اندرونی و بیرونی دونوں حالتیں یکساں طور سے اچھی ہوں۔اس آیت میں دعا اور انابت کے جواب میں جو مقام محمو درسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والے تھے۔ان میں سے پہلے مقام محمود کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اب تجھے اسراء کی خبر کے ماتحت مکہ سے نکال کر ہم ایک اور جگہ کی طرف جو مقام محمود ہے لے جائیں گے۔اس لئے اس کے متعلق ابھی سے دعائیں شروع کر دے۔اور کہہ کہ اے خدا مجھے اس شہر میں ظاہری اور باطنی خوبیوں کے ساتھ داخل کر اور اس مقام سے بھی جس میں میں اس وقت ہوں یعنی مکہ سے ظاہری اور باطنی خوبیوں کے ساتھ نکال یعنی کفار جو ارادہ کر رہے ہیں کہ مجھے ذلت سے نکالیں۔جس سے میرا رعب اور اثر جاتا رہے۔اس میں وہ کامیاب نہ ہوں۔چنانچہ یہ دونوں دعائیں قبول ہوئیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار اپنی مرضی کے مطابق نہ نکا ل سکے بلکہ خدا تعالیٰ کے علم دینے سے آپ خود ہی مناسب موقعہ پر مکہ سے ہجرت کر گئے۔اسی طرح آپ کا دخول مقام محمود میں بھی نہایت اعلی ہوا۔اللہ تعالیٰ نے وہاں آپ کی شمع رُخ کے ہزاروں پروانے پیدا کر دئیے جو آپ کے منہ کی طرف ہر وقت دیکھتے رہتے تھے۔اور جن کو آپ سے وہ عشق تھا کہ اس عشق کی نظیر دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔ان معنوں پر ایک اعتراض ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ خروج مکہ پہلے ہوا ہے اور دخول مدینہ بعد میں۔پھر قرآن کریم نے دخول کو پہلے کیوں بیان فرمایا۔اس کا جواب یہ ہے کہ خروج کی خبر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لازما تکلیف ہوئی تھی اور یہ خیال پیدا ہونا تھا کہ مکہ سے نکل کر ہم کہاں جائیں گے۔اس لئے اللہ تعالی نے اپنے رسول کی محبت کی وجہ سے اس امر کا پہلے ذکر فرمایا کہ عنقریب تجھ کو ایک مبارک مقام ملنے والا ہے اور مکہ سے نکلنے کے ذکر کو اس کے بعد رکھا تا کہ تسلی پہلے مل جائے اور غم کی خبر بعد میں ملے۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ دخول سے مراد آپ کا دوبارہ مکہ میں واپس آنا ہے۔اور خروج سے مراد آپ کی ہجرت ہے۔اس صورت میں بھی ترتیب کے متعلق اعتراض 502