نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 487 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 487

ا مختلف قسم کی گیسز ہیں، مختلف قسم کی تہیں ہیں جو بعض اجرام فلکی کے نقصانات سے تمہیں محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ہر ایک چیز اپنے اپنے بتائے ہوئے وقت، رفتار اور دائرے میں گردش کر رہی ہے۔پھر رات اور دن، چاند اور سورج ہماری زمین کی پیدائش پر اثر انداز ہورہے ہیں۔یعنی زمین میں جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں، مختلف موسم ہیں، بارش ہے، سردی ہے، گرمی ہے اور اس کے حساب سے اللہ تعالیٰ نے مختلف فصلیں اور پھل، درخت اور پودے مہیا کئے ہوئے ہیں۔باغ وغیرہ ہیں جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔تو جولوگ ان چیزوں پر غور کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرتے ہیں، اس پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں وہ اس بات پر بھی قائم ہوتے ہیں کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کے بارہ میں جو بتایا وہ اگر حق ہے تو آخرت بھی حق ہے۔پس یہ سب دیکھ کر ایک مومن دعا کرتا ہے کہ ہماری غلطیوں کو، کوتاہیوں کو معاف فرما۔ان کی وجہ سے ہمیں کسی پکڑ میں نہ لے لینا اور ہمیں آخرت کے عذاب سے بچا۔یہ دعا اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں سکھائی ہے۔فرماتا ہے الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ فِيمَا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران:192) وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں، کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمان وزمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور بے ساختہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔پاک ہے تو پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ : یا الہی تو اس سے پاک ہے کہ کوئی تیرے وجود سے انکار کر کے نالائق صفتوں سے تجھے موصوف کرے۔ایسی باتیں تیری طرف منسوب کرے جو مکمل اور کامل نہیں ہیں جو تیرے مقام سے بہت گری ہوئی چیزیں ہیں۔جن میں کمزوریاں، خامیاں اور سقم ہیں۔سو تو ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا۔یعنی تجھ سے انکار کرنا عین دوزخ ہے۔66 اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 120) 487