نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 488 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 488

فرمایا ” مومن وہ لوگ ہیں جو خدائے تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے بستروں پر لیٹے ا ہوئے یاد کرتے ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں عجائب صنعتیں موجود ہیں ان میں فکر اور غور کرتے رہتے ہیں اور جب لطائف صنعت الہی ان پر کھلتے ہیں“۔یعنی اس کائنات کے جو باریک سے باریک راز ہیں وہ اُن پر کھلتے ہیں جب وہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ اشیاء کے نظارے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدایا تو نے ان صنعتوں کو بے کار پیدا نہیں کیا۔یعنی وہ لوگ جو مومن خاص ہیں صنعت شناسی اور ہیئت دانی سے دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے۔یعنی اللہ تعالی کی پیدا کردہ اشیاء ہیں ان کو دیکھ کر اور اللہ تعالیٰ نے جو مختلف چیزیں پیدا کی ہیں ان کی شکلیں دیکھ کر ، آسمان اور زمین میں جو مختلف چیزیں چاند، سورج، ستارے ہیں، دنیا کی پیدائش ہے، اس کو دیکھ کر فرمایا کہ دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے کہ مثلاً اسی پر کفایت کریں کہ زمین کی شکل یہ ہے اور اس کا قطر اس قدر ہے اور اس کی کشش کی کیفیت یہ ہے اور آفتاب اور ماہتاب اور ستاروں سے اس کو اس قسم کے تعلقات ہیں بلکہ وہ صنعت کی کمالیت شناخت کرنے کے بعد اور اس کے خواص کھلنے کے پیچھے صانع کی طرف رجوع کر جاتے ہیں۔جب ان چیزوں کو دیکھ لیتے ہیں تو پھر وہ دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے اس کو پیدا کرنے والا کون ہے۔اور اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں“۔( سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر 2 صفحہ 144-143) جب اس پیدا کرنے والے کا پتہ لگ جاتا ہے، خدا تعالیٰ کی عظمت کا پتہ لگتا ہے، خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا پتہ لگتا ہے تو پھر ایمان میں اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے، جب یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ایک خدا ہے تو اس کی ہستی اور طاقتوں پر اور یقین بڑھتا ہے۔پھر اس بات کا بھی یقین بڑھتا ہے کہ ان سب کو پیدا کرنے والا وہ زندہ خدا ہے جس نے اپنی عبادت کرنے کے لئے بھی کہا ہے، دعائیں مانگنے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور عمل کے حساب سے اچھے اور بُرے اعمال سے بھی آگاہ کیا ہے۔تو پھر وہ پکارتا ہے کہ اے اللہ ! 488