نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 479 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 479

میں تم میں سے کسی عامل کا عمل ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مرد ہو خواہ عورت ہو۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحه 331) پہلی بات ان آیات سے ہمیں یہ پتا لگتی ہے کہ آسمان اور زمین کی پیدائش یعنی کائنات کی ہر شے ایک آیت ایک نشان ہے۔ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں پتا بتاتی ہے حقائق کا۔جو ہمیں پتا دیتی ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات اور اس کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی قدرت کا۔ہر چیز ہماری راہنمائی کر رہی ہے ہمارے پیدا کرنے والے رب کی طرف اور صرف مادی اشیاء ہی نہیں بلکہ اس کا ئنات کو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دوحصوں میں تقسیم کیا۔ایک تو مادی اشیاء ہیں جن کو آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے زمانہ ہے اور اس کو وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔زمانہ اپنے اثرات دکھاتا ہے ان جہانوں میں اور زمانہ سے پیدا ہونے والا ہر اثر ہمیں کوئی سبق دے رہا ہے۔ہمیں کچھ سکھاتا ہے ہماری رہنمائی اور رہبری کرنے والا ہے تو یہاں یہ فرمایا کہ یہ کائنات جو ہے اس کے ہر دو حصے مادی حصہ بھی اور زمانہ بھی جو اپنی ذات میں ایک حقیقت ہے۔زمانے کے اثرات مادی دنیا پر ہوتے ہیں مثلاً ان کا بڑا اور چھوٹا ہونا ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے دنوں کا چھوٹا رہنا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے چھوٹے دنوں کا اور لمبی راتوں کا ہونا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کے لئے لمبے دنوں کا اور چھوٹی راتوں کا ہونا ضروری ہے۔بعض ایسے پودے ہیں جن کیلئے سورج کی روشنی اور اندھیرے کی ایک جیسی لمبائی کا ہونا ضروری ہے۔تو یہ زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔زمانہ ہر آن حرکت میں ہے اور فاصلے کی نسبتوں کو قائم کرنے والا ہے۔کس قدر تیزی سے کوئی چیز چل رہی ہے یا کتنی دور ہے کوئی چیز۔اس وقت اختصار کے ساتھ زمانہ کے متعلق اس حقیقت کو بیان کر دینا کافی ہے۔479