نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 468 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 468

اور حقیقت اس مدوجزر کی یہ ہے کہ کبھی بامر اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں ایک صورت انقباض اور محجوبیت کی پیدا ہو جاتی ہے اور دنیا کی آرائشیں ان کو عزیز معلوم ہونے لگتی ہیں اور تمام ہمتیں ان کی اپنی دنیا کے درست کرنے میں اور اس کے عیش حاصل کرنے کی طرف مشغول ہو جاتی ہیں۔یہ ظلمت کا زمانہ ہے جس کے انتہائی نقطہ کی رات لیلہ القدر کہلاتی ہے اور وہ لیلہ القدر ہمیشہ آتی ہے مگر کامل طور پر اس وقت آئی تھی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا دن آپہنچا تھا کیونکہ اس وقت تمام دنیا پر ایسی کامل گمراہی کی تاریکی پھیل چکی تھی جس کی مانند کبھی نہیں پھیلی تھی اور نہ آئندہ کبھی پھیلے گی جب تک قیامت نہ آوے۔غرض جب یہ ظلمت اپنے اس انتہائی نقطہ تک پہنچ جاتی ہے کہ جو اس کے لئے مقدر ہے تو عنایت الہیہ تنویر عالم کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور کوئی صاحب نور دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو اس کی طرف مستعد روحیں کھینچی چلی آتی ہے اور پاک فطرتیں خود بخو درو بحق ہوتی چلی جاتی ہیں اور جیسا کہ ہر گز ممکن نہیں کہ شمع کے روشن ہونے سے پروانہ اس طرف رخ نہ کرے ایسا ہی یہ بھی غیر ممکن ہے کہ بروقت ظہور کسی صاحب نور کے صاحب فطرتِ سلیمہ کا اس کی طرف بارادت متوجہ نہ ہو۔ان آیات میں جو خدائے تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، جو بنیادِ دعوی ہے اُس کا خلاصہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ایک ایسی ظلمانی حالت پر زمانہ آچکا تھا کہ جو آفتاب صداقت کے ظاہر ہونے کے متقاضی تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 645 تا 647) قُلِ اللَّهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ : خدا کے تمام وعدے اعمال کے ساتھ وابستہ ہیں اور اعمال کی توفیق دعاؤں سے حاصل ہوتی ہے۔اس لئے دعا سکھائی ہے۔قرآن کی دعائیں یا تورب، رَبَّنَا سے شروع ہوتی ہیں یا اللھم سے۔عام دُعا جو ہر نماز میں مانگی جاتی ہے وہ بھی اللھم 468