نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 459 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 459

کے مطابق کوشش نہیں کرنی چاہئے؟ یقینا ایک حقیقی مومن اس کے لئے کوشش کرے گا اور کرنی چاہئے۔پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”شریعت کا مدار نرمی پر ہے سختی پر نہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 404۔ایڈیشن 1985 مطبوعہ انگلستان ) یعنی ہر ایک سے اس کی استعدادوں کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔شریعت نرمی اور آسانی دیتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے استعدادوں کے مطابق عمل کا کہہ کر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی کی حد مقرر کر دی۔یہ حد بندی کر دی۔ہر ایک کی اپنی ذہنی اور علمی حالت کے مطابق انسانی عقلوں کی بھی حد بندی کردی۔کاموں کی بھی حد بندی کردی سوائے اس کے کہ انسان ذہنی بیمار ہو یا پاگل ہو۔چھوٹی سے چھوٹی عقل رکھنے والے کے لئے بھی اس کے مطابق عمل کا کہا ہے جو اس کی صلاحیتیں ہیں، جو اس کی استعدادیں ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان ایمان حاصل کرے۔اس لئے اس نے چھوٹی سے چھوٹی عقل کا بھی معیار قائم کیا کہ جو جس کی صلاحیت ہے اس کے مطابق اس کو ایمان تو بہر حال حاصل کرنا چاہئے۔اگر وہ چھوٹی سے چھوٹی عقل کا بھی معیار مقرر نہ کرتا پھر سب لوگ ایمان لانے کے مکلف نہ ہوتے۔ان پر لازمی نہ ہوتا کہ ضرور ایمان لائیں۔صرف وہی اس کے مکلف ہوتے جو عقل کے اونچے معیار کے ہیں جن کی صلاحیتیں اور استعداد میں بہت زیادہ ہیں۔اگر کسی شخص کو کوئی بات سمجھ نہ آئے تو پھر اس پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد نہیں ہوتا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے ادنی عقل سے لے کر اعلی عقل تک مختلف درجوں کے لحاظ سے معیار رکھے ہیں۔کوئی بڑا عقلمند ہے۔کوئی کم عقلمند ہے۔کسی میں زیادہ صلاحیتیں استعداد میں ہیں۔کسی میں کم ہیں۔دنیا داری کے معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں۔اسی دماغی رجحان اور حالت کے مطابق کوئی اعلیٰ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ صلاحیت رکھتے ہوئے بہت آگے نکل جاتا ہے۔کوئی درمیان میں رہتا ہے۔459