نُورِ ہدایت — Page 458
ہے کہ تم ضرور کرومگر اس کا چھوٹے سے چھوٹا معیار رکھ کر اس پر عمل نہ کر کے مؤاخذہ سے بچنے والوں کا عذر نہیں رہنے دیا۔فرما دیا کہ یہ معیار تمہاری حالت کے مطابق ہیں ان پر تو بہر حال چلنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : کوئی آدمی بھی خلاف عقل باتوں کے ماننے پر مجبور نہیں ہوسکتا۔قویٰ کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی گئی۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے۔اور نہ شرائع واحکام خدائے تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے۔“ پہیلیاں بوجھوانی شروع کر دے۔مشکل باتیں بیان کر کے انسان پر یہ فخر ظاہر کرے۔) فرمایا : ”۔۔فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے ہی سے اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان! اور کہاں کا ان حکموں پر عمل درآمد؟ خدا تعالیٰ اس سے برتر و پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 61-62۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان) پس اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو اعضاء دئیے ہوئے ہیں، جو طاقتیں دی ہوئی ہیں اس کے قوی کی برداشت اور طاقت کے مطابق اپنے احکامات پر عمل کرنے کی انسان سے توقع کی ہے۔اللہ تعالیٰ کوئی ہماری طرح نہیں ہے کہ اپنا رعب قائم کرنے کے لئے حکم دے دیے۔ان افسروں کی طرح جو اپنے ماتحتوں کو تنگ کرنے کے لئے بعض حکم دیتے ہیں اور نہ عمل کرنے کی وجہ سے ان کو ذلیل ورسوا کرتے رہتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رحمت تو اپنے بندوں پر بیشمار ہے۔انسان عمل کرے جن باتوں کے عمل کرنے کا حکم دیا ہے توکئی گنا اجر دیتا ہے اور ہر ایک کی صلاحیت کے مطابق اس سے عمل کی توقع رکھتا ہے اور بیشمار اجر دیتا ہے۔پس کیا ایسا خدا جو اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہو اس کی باتوں پر عمل کرنے کی انسان کو اپنی استعدادوں 458