نُورِ ہدایت — Page 457
احکام آتے ہیں جن پر عمل انسانی طاقت سے باہر نہیں تو پھر ان پر عمل کی ذمہ داری انسان پر عائد ہوتی ہے۔ایک حقیقی مومن یہ عذر نہیں کر سکتا کہ فلاں حکم میری طاقت سے باہر ہے۔اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی اس بات پر بھی ایمان لازمی ہے کہ اس کے تمام احکام ہماری استعدادوں کے مطابق ہیں اور ہمیں ان پر اپنی تمام تر استعدادوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ حکم ہے تم اس پر عمل کر کے اس کے اعلیٰ ترین معیاروں کو ضرور حاصل کرناور نہ اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے۔بلکہ یہ فرمایا کہ ہر حکم پر عمل تمہاری استعدادوں کے مطابق ضروری ہے۔اور جب ہم انسانی فطرت کا ، انسان کی حالت کا جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر انسان کی حالت مختلف ہے۔اس کی دماغی حالت، اس کی جسمانی ساخت، اس کا علم ، ذہانت وغیرہ مختلف ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوریوں، اس کی حالت اور اس کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے احکامات میں ایسی لچک رکھ دی ہے جس کے کم سے کم معیار بھی ہیں اور زیادہ سے زیادہ معیار بھی مقرر ہیں۔جب ایسی لچک ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم میرے احکامات پر دیانتداری سے عمل کرو۔پس یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے جو انسانی فطرت کو سامنے رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔کسی کو اس اعتراض کی گنجائش نہیں رہنے دی کہ اے اللہ ! تو نے میری فطرت تو ایسی بنائی ہے، میری حالت تو ایسی بنائی ہے اور احکامات اس سے مطابقت نہ رکھنے والے دیئے ہیں۔حکم تو تو مجھے یہ دے رہا ہے کہ اعلیٰ ترین معیار تیرے احکامات پر عمل کر کے قائم کروں اور میری جسمانی حالت یہ ہے کہ میں اس پر عمل اس معیار کے مطابق کر ہی نہیں سکتا یا میری ذہنی حالت نہیں یا میری اور کمزوریاں ہیں جو ان معیاروں کو حاصل کرنے میں روک ہیں، میں کس طرح اس پر عمل کر سکتا ہوں۔لیکن اللہ تعالی نے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہہ کر تمام عذر ختم کر دئیے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیشک اپنے احکامات، اپنی تعلیم پر عمل کا مکلف ٹھہرایا ہے۔اس کو کہا 457