نُورِ ہدایت — Page 456
ہیں،لوگوں نے یہ کہنا ہے کہ یہ الہی جماعت کہلاتی ہے، دعویٰ کرتی ہے، اُسے بھی دوسروں کی طرح تکلیفیں پہنچ رہی ہیں اور سزائیں بھی مل رہی ہیں۔پس اے مولیٰ ! تو ہمارا آقا ہے، ہم تیرے خادم ہیں۔تو ہم پر رحم کر۔ہماری کمزوریاں تیری طرف منسوب ہوں گی ، لوگ سمجھیں گے کہ یہ صرف ان کے دعوے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور جو ہدایت اور تبلیغ کا کام ہم کر رہے ہیں اُس میں روکیں پیدا ہوں گی ، اُس پر اثر پڑے گا اور لوگ ہدایت سے محروم ہوجائیں گے۔پس ہم رحم کی بھیک مانگتے ہیں۔اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اقرار کرتے ہیں۔تیرے سے عفو اور بخشش کے طلبگار ہیں۔فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِين۔پس اپنی خاص نظر ہم پر ڈالتے ہوئے ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔اور جولوگ ایسے کام کر رہے ہیں جس سے اسلام کی ترقی میں روک واقع ہورہی ہے اُن پر تو ہمیں غالب کر۔اور تیرے نام اور تیری تبلیغ کو ہم دنیا میں پھیلانے والے ہوں۔آجکل صرف غیر مسلم ہی نہیں یا وہ لوگ جو خدا کو نہیں مان رہے وہی اسلام کے خلاف باتیں نہیں کر رہے بلکہ مسلمانوں میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو اسلام کی تبلیغ کے راستے میں روک بن رہا ہے۔بلکہ مسلمانوں میں سے زیادہ ایسے ہیں جو اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔اور غیر مسلم دنیا میں ہماری تبلیغ میں روک بن رہے ہیں۔اسلام کے نام پر جو بعض شدت پسند گروہ بنے ہوئے ہیں، یہ لوگ شدت پسندی والا اسلام پیش کر رہے ہیں، اُس کا اثر ہماری تبلیغ پر بھی ہوتا ہے، ہورہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے خاص شدت کے ساتھ اس لحاظ سے بھی دعا کی ضرورت ہے۔( خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ، فرمودہ 8 مارچ 2013ء) حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔(البقرۃ287) یعنی اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں ڈالتا۔پس اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ وہ کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جو انسانی طاقت سے باہر ہو، اس کی استعدادوں سے باہر ہو، اس کی قابلیت سے باہر ہو۔پس جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے 456