نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 454 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 454

اُس پر اُس کو کمال تک پہنچاؤ۔پھر آتا ہے : رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا یعنی ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو پہلوں پر ڈالا گیا اور اُس کی وجہ سے اُنہیں سزا ملی۔یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس کا نمازیں پڑھنے یا قرآنِ کریم کے جو احکامات ہیں ان سے اس کا تعلق نہیں۔اس میں یہ نہیں کہا کہ یہ ہمارے غیر معمولی بوجھ ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو پہلے ہی فرما دیا۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ اللہ تعالیٰ اپنے احکامات انسان کی طاقت اور وسعت کے مطابق دیتا ہے۔اس بوجھ نہ ڈالنے کے یہ معنی ہیں کہ بعض جرموں کی وجہ سے پہلے لوگوں کو سزائیں دی گئیں ، وہ سزائیں ہم پر نازل نہ ہوں۔اور ہم سے وہ غلطیاں سرزد نہ ہوں جو پہلے لوگوں سے سرزد ہوئیں اور وہ تباہ ہو گئے۔اگر ہم غلطیاں بھی کرتے رہیں اور پھر کہیں کہ ہمیں سزا بھی نہ ملے جو پہلوں کو ملی تو یہ تو نہیں ہو سکتا۔یہ اللہ کے عمومی قانون کے خلاف ہے۔پس یہ دعا اور ساتھ برے اعمال سے بچنے کی کوشش ہی انسان کو اس سزا سے بچاتی ہے۔پہلے لوگوں کی خطاؤں کی وجہ سے اُن پر ایسی حکومتیں مسلط کردی گئیں جو ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتی تھیں۔پس ہمیں ایسے حکمرانوں سے بچا جو ہمارے لئے سزا بن گئے ہیں اور تیری ناراضگی کی وجہ سے یہ سزا ہم پر مسلط ہے۔اگر تو ناراضگی کی وجہ سے ہے تو بہت زیادہ درد سے دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ صرف امتحان ہے تو اس امتحان کو بھی ہم سے ہلکا کر دے۔پھر یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَابہ۔بعض دفعہ دوسروں کی سزا کا بھی اثر انسان پر پڑتا ہے۔یا کسی نہ کسی طریقے سے اثر پہنچ رہا ہوتا ہے۔اس لئے اس سے بچنے کی بھی دعا سکھائی کہ اللہ تعالیٰ دوسروں کے قصور کی سزا کے اثرات سے بھی بچائے رکھے۔لڑائی اور جنگ میں دہشت گردی کے حملوں میں جن کو مارنا مقصود نہیں ہوتا، وہ بھی مارے جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے، کسی خاص گروپ کو مارنا چاہتے تھے لیکن وہاں جو بھی گیا وہ مر گیا۔معصوم بچے بھی مرجاتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا ہے کہ مالا طاقة کتابهہ کی شرط اس لئے ہے کہ یہاں ناراضگی کا سوال نہیں ، بلکہ دنیاوی مسائل اور ابتلاؤں کا 454