نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 38 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 38

کے سامنے جا کر ان کو سب کچھ تسلیم کر لینا یہ گناہ ہے اور اس سے شرک لازم آتا ہے۔اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حاکم بنایا ہے۔ان کی اطاعت ضروری ہے مگر ان کو خدا ہر گز نہ بناؤ۔انسان کا حق انسان کو اور خدا تعالیٰ کا حق خدا تعالیٰ کو دو۔پھر یہ کہو۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم۔۔الخ ہم کو سیدھی راہ دکھا۔یعنی ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کئے اور وہ نبیوں ،صدیقوں ،شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہے۔اس دُعا میں ان تمام گروہوں کے فضل اور انعام کو مانگا گیا ہے۔ان لوگوں کی راہ سے بچا جن پر تیرا غضب ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔الحکم نمبر 23 جلد 6 مؤرخہ 24 جون 1902 ، صفحہ 2) اس سورہ میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں (1) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے(2) تمام مسلمانوں کو (3) تیسرے ان حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں۔پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشاء خدا تعالیٰ کا ہے۔مکتوب حضرت مسیح موعود بنام شیخ غلام نبی صاحب مندرجہ الکم نمبر 20، 21 جلد 40 مؤرخہ 28 جولائی۔7 اگست 1937ء صفحہ 3) نماز میں سورۃ فاتحہ کی دعا کا تکرار نہایت موثر چیز ہے۔کیسی ہی بے ذوقی و بے مزگی ہو اس عمل کو برابر جاری رکھنا چاہئے۔یعنی کبھی تکرار آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا اور کبھی تکرار آیت اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا اور سجدہ میں يَاحَنُ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اسْتَغِيْتُ الحکم نمبر 1 جلد 2 مؤرخہ 20 فروری1898 صفحہ 9) حملا سورۃ فاتحہ کا ورد نماز میں بہتر ہے۔بہتر ہے کہ نماز تہجد میں اهْدِنَا الصِّراط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کا بدلی توجہ وخضوع و خشوع تکرار کریں اور اپنے دل کو نزول انوار الہیہ کے لئے پیش کریں اور کبھی تکرار آیت انیاک نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا کیا کریں۔ان دونوں آیتوں کا تکرار انشاء اللہ القدیر تنویر 38