نُورِ ہدایت — Page 37
اور خوبیاں ان گنت ہیں اور ان کا شمار انسانی طاقت میں نہیں خواہ کوئی اس خواہش کی تکمیل میں اپنی عمر گزار دے۔گمراہ اور بد بخت لوگوں نے اپنی جہالت اور کند ذہنی کی بناء پر اس کی صحیح قدر نہیں کی۔انہوں نے اسے پڑھا تو سہی لیکن باوجود بار بار پڑھنے کے وہ اس کی خوبی اور خوبصورتی کو نہ پاسکے۔یہ سورت منکروں پر شدت سے حملہ کرنے والی اور صحت مند دلوں پر شرعت سے اثر کرنے والی ہے۔ہر وہ شخص جس نے اس پر ایک پر کھنے والے کی طرح نظر ڈالی اور چمکتے ہوئے چراغ کی مانند روشن فکر کے ساتھ اس کے قریب ہوا اس نے اس کو آنکھوں کا نور اور اسرار کی کلید پایا۔بلاشک وشبہ یہی بات حق ہے اور نہ یہ کوئی ظنی بات ہے۔اگر تمہیں کوئی شک ہو تو اٹھو اور خود اس کا تجربہ کرلو اور ماندگی دستی کو چھوڑ دو اور یہ سوال نہ کرو کہ یہ کیسے اور کہاں ہو سکتا ہے۔اس سورت کے عجائبات میں سے یہ بات بھی ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی تعریف ایسے الفاظ میں بیان کی ہے کہ اس سے زیادہ بیان کرنا انسان کی طاقت میں نہیں۔ہم دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان اس سورۃ فاتحہ کے ذریعہ فیصلہ کر دے۔ہمارا اُسی پر توکل ہے۔آمین یا رب العالمین۔اعجاز امسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 79-81) سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دُعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔چنانچہ اس دُعا کو اللہ تعالیٰ نے یوں سکھایا ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم۔۔۔إلى أخر لا یعنی دعاسے پہلے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کی جاوے۔جس سے اللہ تعالیٰ کے لئے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو۔اس لئے فرمایا الحمد للہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔رَبِّ الْعَالَمِينَ سب کو پیدا کرنے والا اور پالنے والا۔الرحمن جو بلا عمل اور بن مانگے دینے والا ہے۔الرَّحِيمِ پھر عمل پر بھی بدلہ دیتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دیتا ہے۔ملِكِ يَوْمِ الدین ہر بدلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔نیکی بدی سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔پورا اور کامل موحد تب ہی ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کو ملِكِ يَوْمِ اللي بين تسلیم کرتا ہے۔دیکھو گام 37