نُورِ ہدایت — Page 450
ہے۔۔۔۔۔یعنی شباب کا زمانہ۔جوانی کا زمانہ ”جب انسان کوئی کام کر سکتا ہے کیونکہ اس وقت قویٰ میں نشو ونما ہوتا ہے اور طاقتیں آتی ہیں لیکن یہی زمانہ ہے جبکہ نفس امارہ ساتھ ہوتا ہے اور وہ اس پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے۔یہی زمانہ ہے جو مواخذہ کا زمانہ ہے اور خاتمہ بالخیر کے لئے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں۔لیکن ایسی آفتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بنا دے گا۔ہاں اگر عمدگی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانے کو بسر کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علینا۔سورۃ البقرۃ آیت 287۔جلد اول صفحہ 777) پس با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا جو احکام دیئے ہیں اور جن کے نہ کرنے کا حکم دیا ہے اگر ایک انسان ان کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتا۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وسیع تر رحمت اور بخشش کی خوشخبری دی ہے۔اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور خود انسان اپنی وسعتوں اور طاقتوں کا فیصلہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حکم سے روگردانی کرتا ہے تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے یہ بات جہنم میں لے جانے کا باعث بنتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود بھی لا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہنے کے بعد آگے فرمایا ہے کہ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ کہ اس نے جو اچھا کام کیا وہ بھی اس کے لئے نفع مند ہے اور جو اس نے برا کام کیا وہ بھی اس پر و بال ہو کر پڑے گا۔نیکی کے لئے كَسَبَت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو آسانی سے ہوسکتا ہے۔اگر ارادہ ہو۔کیونکہ نیکی فطرت کے مطابق ہے۔لیکن بعض اوقات انسان اپنی بدقسمتی سے فطرت کے مطابق عمل کرنے کی بجائے اکتساب کا راستہ اختیار کرتا ہے جو غیر فطری بات ہے۔اخلاقی قوتوں کو صحیح مواقع پر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے انسان اس راستے پر چلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ آسان راستہ ہے۔لیکن جب گناہوں اور برائیوں میں دھنستا چلا جاتا ہے۔پھر احساس ہوتا ہے کہ میں ایک تکلیف دہ راستے کی طرف 450