نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 447 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 447

ے۔اللہ یقیناً بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اب یہ حکم ہے جو عقل کے مطابق ہے۔حکمت لئے ہوئے ہے۔اور انسانی قومی کی برداشت کے لحاظ سے بھی انتہائی اعلیٰ درجہ کا ہے کہ اگر جان کا خطرہ ہے تو ان حرام چیزوں کا استعمال کر تو سکتے ہو مگر صرف جسم کی بقا کے لئے ، صرف سانس کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے لیکن کوشش کرو کہ حتی الوسع ان سے بچو اور جہاں تک ہو سکے حرام اور حلال کے فرق کو قائم رکھو۔پھر ساتویں بات یہ یاد رکھنے والی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام انسانی طاقت کے اندر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے اور نہ شرائع اور احکام خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے۔“ یعنی یہ بتائے کہ میرے میں سب طاقتیں ہیں اور کوئی اس قسم کا معمہ پیش کرے جس کو کوئی حل نہ کر سکتا ہو اور پھر بڑے فخر سے کہے کہ دیکھو میری بات تم سمجھ نہیں سکے۔یہ نہیں ہے۔فرمایا کہ نہ شرائع اور احکام خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے۔اور یوں پہلے سے ہی اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان؟ اور کہاں کا ان حکموں پر عملدرآمد ؟ تو اللہ تعالیٰ نے کسی مشکل میں ڈالنے کے لئے حکم نہیں دیئے تھے کہ کس طرح میں اپنے بندوں کو آزماؤں کہ یہ بیہودہ انسان اور کمزور انسان کس طرح میرے حکم پر عمل کر سکتا ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ اس سے برتر 66 اور پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود عالسلام ( سورة البقرة آيت 287) جلد اول صفحہ 776) پھر آٹھویں بات جو ہے اس تعلق میں یہ ہے کہ جو شرائط احکام کی بجا آوری کے لئے خدا تعالیٰ نے لگائی ہیں وہ ہر ایک کی ذہنی ، جسمانی علمی، معاشی، روحانی وسعت کے لحاظ سے ہیں اور ہر ایک اپنے اپنے مرتبہ علمی اور عقلی اور جسمانی اور معاشی اور روحانی کے لحاظ سے احکام بجا 447