نُورِ ہدایت — Page 446
ہے کہ عبادت سے محروم ہو جاتا ہے اور کسی چیز کی ہوش ہی نہیں رہتی۔ناجائز ذرائع سے پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وقت کا ضیاع کرتا ہے۔گھریلو ذمہ داریوں سے پہلوتہی کرتا ہے۔عقل کے استعمال کی بجائے شراب اور جوئے کی برائیوں میں پڑے ہوئے جو لوگ ہیں وہ جوش اور غصہ دکھانے والے زیادہ ہوتے ہیں۔لیکن الکحل جو ہے اگر بالکل معمولی مقدار میں انسانی فائدے کے لئے دوائیوں میں استعمال کیا جائے ، انسانی جان بچانے کے لئے دوائیوں میں استعمال کیا جائے تو وہاں یہ کی بھی جاتی ہے۔ہومیو پیتھی دوائیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے اور دوسری دوائیوں میں بھی۔اتنی معمولی مقدار ہے کہ اس میں نشہ نہیں ہوتا۔لیکن خالص شراب جو ہے وہ پینے والے چاہیں تھوڑی پئیں وہ اپنا نقصان کر رہے ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بڑھتی چلی جاتی ہے اور تھوڑی پینے کی جو عادت ہے وہ زیادتی میں بدلتی چلی جاتی ہے۔اس لئے تھوڑی پینے کی بھی ممانعت ہے۔اسی طرح اگر اسلام میں روزہ کا حکم ہے تو اس کی حکمت بھی بیان کی گئی ہے اگر انسان سوچے تو نما ز یا روزہ کا جو حکم ہے، خدا تعالیٰ کے جو یہ احکامات ہیں یہ انسانی فائدے کے لئے ہیں۔عبادت کے علاوہ اس کی صحت اور اس میں ڈسپلن پیدا کرنے کے لئے ہیں۔جن کے نہ کرنے کا حکم ہے وہ بھی فائدے کی چیزیں ہیں۔جن کے کرنے کا حکم ہے وہ بھی بڑی حکمت لئے ہوئے ہیں اور انسان کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت ہے اور بغیر حکمت بیان کئے اللہ تعالیٰ کسی کو یہ نہیں کہتا کہ تم اس کام کو کرو یا نہ کرو۔چھٹی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو قویٰ کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی۔مثلاً فرمایا کہ انّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَاللَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ۔فَمَنِ اضْطَرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة 174) کہ اُس نے تم پر صرف مردار ، خون ، سور کے گوشت کو اور ان چیزوں کو جن کو اللہ کے سوا کسی اور سے نامزد کر دیا گیا ہو، حرام کیا ہے۔مگر جو شخص ان اشیاء کے استعمال پر مجبور ہو جائے اور نہ تو وہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حدود سے آگے نکلنے والا ہو اس پر کوئی گناہ نہیں 446