نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 441 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 441

بیٹھ گیا اور پھر سوال کئے اور عرض کیا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر پر یقین رکھے۔( صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔۔۔حدیث نمبر 8) اب یہ باتیں ایسی ہیں کہ جن کے ماننے میں کوئی تکلیف مالا يطاق نہیں۔اگر فطرت نیک ہو، اللہ تعالیٰ کی تلاش ہو تو کائنات کیا زمین پر ہی اللہ تعالیٰ کی پیدائش کے مختلف نظارے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین پیدا کرتے ہیں۔اور پھر اس کا رخانہ قدرت کو دیکھتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہوئے ملائکۃ اللہ پر انسان غور کرتا ہے۔تمام نظام کائنات کو دیکھتا ہے اور غور کرتا ہے تو فرشتوں کی حقیقت بھی اپنی اپنی ذہنی اور علمی استعداد کے مطابق ہر انسان پر کھلتی چلی جاتی ہے۔پھر خدا کے انبیاء پر جو کتابیں اتریں ان پر مہر جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں قرآن کریم نے ثبت کی۔اُن کی غلطیوں اور خامیوں اور تحریفوں کی نشاندہی کی۔ان کی بعض تعلیمات کی تصدیق کی اور بعض کی تردید کی۔قرآن کریم کی تصدیق اور اس کی حفاظت کا اعلان کر کے اور آج تک یہ ثابت کر کے کہ اس میں کوئی تحریف اور تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے اس پر ایمان میں پختگی پیدا کرنے کا اعلان فرمایا۔اور جو تعلیم قرآن کریم میں دی، اس کے متعلق یہ اعلان فرما دیا کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر عمل انسانی استعداد سے بالا ہو۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر آج تک کروڑ با مسلمانوں نے اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اس پر عمل کر کے دکھایا۔پھر رسولوں پر ایمان ہے۔اگر رسولوں کا انکار کیا گیا ، تو ان قوموں کی بد قسمتی تھی لیکن اُن کی تعلیم اور اُن کے دعوے کبھی ایسے نہیں ہوئے جو کسی انسان کو تکلیف میں ڈالیں۔ہر نبی نے یہی کہا کہ میں اس طرح پر تمہیں خدا سے ملانے اور تمہارے فائدے کی تعلیم دینے کے لئے آیا ہوں، اور اس کے لئے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔میرا اجر خدا کے پاس ہے۔میرا مقصد تمہیں تکلیف پہنچانا نہیں بلکہ تمہاری بھلائی ہے اور اس لئے کہ تم یوم آخرت پر یقین کرو اور 441