نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 436 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 436

استعدادوں کو سامنے رکھتے ہوئے بولا جاتا ہے۔جیسا کہ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ظاہر ہے۔لیکن جیسا کہ میں گزشتہ خطبوں میں بتا چکا ہوں خدا تعالیٰ کے لئے واسع کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔یہ خدا کی صفت اور نام ہے۔جس کا مطلب ہے کہ صلاحیتوں کی اور استعدادوں کی کوئی قید نہیں ہو سکتی۔بلکہ اللہ تعالیٰ جہاں جامع الصفات ہے اور تمام طاقتوں اور قدرتوں کا مالک ہے وہاں اس کی طاقتوں اور قدرتوں اور علم کی اتنی وسعت ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔اس لئے اُن کے احاطہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بہر حال اس آیت کے حوالے سے میں چند باتیں کہوں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کی روشنی میں ہیں کہ انسان کو مختلف حالات میں اس کی وسعت کے لحاظ سے، اس کی طاقتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے مکلف بنایا گیا ہے۔کیونکہ خدا تعالی کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس کو انسان بجانہ لاسکے یا اس کی طاقت اور قدرت سے بالا ہو۔پس یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرے اور جب یہ کوشش ہوگی تبھی ایک مومن اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو پانے والا ٹھہر سکتا ہے جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔پس اسلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ احکامات جو انسان کی طاقت اور استعدادوں کے مطابق ہیں، دے کر ہر ایک کو اپنے اعمال کے مطابق جزا سزا کا ذمہ دارٹھہراتا ہے۔اور خلاف عقل یہ نظر یہ پیش نہیں کرتا کہ ایک معصوم نبی کو تورات کی تعلیم کے مطابق لعنتی موت مارا کہ قیامت تک آنے والے لوگ غلطیاں کرتے رہیں، گناہ کرتے رہیں، خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل رہیں ، تب بھی کوئی فکر کی بات نہیں ہے کیونکہ ایک معصوم نبی اور اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اُن کے ان گناہوں کے لئے لعنتی موت قبول کر چکا ہے۔لیکن قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کا کیا فطرت کے مطابق اور حکیمانہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہر ایک کی کمزوریوں اور صلاحیتوں کے مطابق ہیں اور پھر یہ کہ انسان کا نیک اعمال بجالانا اور ان کو بجالانے کے لئے کوشش کرنا اسے تمام گناہوں سے کلی پاک نہیں کر دیتا۔کیونکہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ انسان کی رگوں میں شیطان خون کی طرح دوڑ رہا ہے۔اس لئے کئی ایسے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں کہ انسان 436